آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 123 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 123

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 123 باب دوم آئے گا جب اس کے اعمال کا اجر نہیں رہا ہو گا۔جب بھی کوئی پاگل ہونے کا اعتراض کرے اس کے سامنے یہ بات رکھ دی جائے گی کہ پاگل کے کام کا نتیجہ تو اس وقت بھی نہیں نکلتا جب وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔مگر رسول کریم میے کے متعلق دیکھو کہ کئی سو سال گزر جانے کے بعد بھی نتائج ما الله نکل رہے ہیں۔پھر فرمایا ہم ایک اور بات بتاتے ہیں۔واِنكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ پاگل کو پاگل کہو تو وہ چھپڑ مارے گا لیکن عقل مند برداشت کر لے گا۔اگر یہ لوگ تجھے پاگل سمجھتے تو تیری مجلس میں آکر تجھے پاگل نہ کہتے بلکہ تجھ سے دور بھاگتے۔یہ جو تیرے سامنے تجھے پاگل کہتے ہیں یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ تو پاگل نہیں ہے اور آئندہ آنے والوں کے لئے یہ ثبوت ہے کہ یہ پاگل کہنے والوں کے متعلق تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کے برا بھلا کہنے پر چپ رہو۔کیا ایسا بھی کوئی پاگل ہوتا ہے جو صرف آپ ہی پاگل کہنے والوں کے مقابلہ میں اپنے جوش کو نہ دبائے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی ہدایت کر جائے کہ مخالفوں کو برا بھلا نہ کہنا۔فَتُبْصِرُ وَ يُنصرون پس عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ بايكُمُ الْمَفْتُونَ تم دونوں میں سے کون گمراہ ہے۔اس دلیل میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پاگل کو کبھی خدائی مدد نہیں ملتی۔محمد رسول اللہ اللہ خدا تعالی کی مدد سے کامیاب ہو رہے ہیں پھر ان کو پاگل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔صا دوسرا اعتراض: دوسرا اعتراض رسول کریم ﷺ پر اس حالت میں کیا گیا جب مخالفین نے دیکھا کہ یا پاگل کہنے پر عقل مند لوگ خود ہمیں پاگل کہیں گے۔جب وہ یہ دیکھیں گے کہ جسے پاگل کہتے ہیں اس نے تو نہ کسی کو مارا ہے نہ بیٹا۔بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں۔پس انہوں نے سوچا کہ کوئی اور بات بنا ؤ۔اس پر انہوں نے کہا اسے پریشان خوا میں آتی ہیں اور ان کی وجہ سے دعوی کر بیٹھا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: بل قَالُوا أَضْغَاتُ احْلاو (الانیا (۲) کہتے ہیں کہ اس کا کلام اضفات احلام