آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page xiii of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page xiii

آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جولات تعارف جہاں اللہ اور اس کے رسول کا غالب آنا ایک تقدیر مبرم ہے وہاں مامورین من اللہ کی مخالفت ، انکا استہزا اور ان پر مخالفین کی طرف سے طرح طرح کے اعتراضات بھی ایک سنت مستمرہ ہے۔یہ مخالفت اور استہزاء انبیاء کی سچائی کی علامت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کی ”دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُحَسْرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِهُ وَنَ (س (۳۱) یعنی بندوں پر افسوس! کہ کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس سے انہوں نے ٹھلھا نہیں کیا" چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۴) پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جو اس میں ما کے ساتھ حصر کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو سچا ہے اسکے ساتھ جنسی اور ٹھٹھا ضرور کیا جاتا ہے۔اگر یہ نہ کیا جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام صادق نہیں ٹھہرنا۔صادق کی یہ بھی ایک نشانی تھہری" ( الحکم ۷ اسرا گست ۱۹۰۱ء ) مخالفین و معاندین انبیاء نے اپنی سنت برقرار رکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات اور آپ کی پاکیزہ تعلیمات پر نہ صرف اعتراضات کئے ہیں بلکہ انہوں نے بد نیتی اور تعصب کی بنا پر جھوٹے الزامات لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔بعثت کے بعد کفار مکہ، یہودونصاریٰ اور منافقین نے آپ پر جو اعتراضات اٹھائے ان میں سے بعض کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی فرمایا ہے اور ان کے جوابات بھی دیئے اعتراضات اور الزامات کا یہ سلسلہ چودہ سو سالوں سے مسلسل جاری ہے اور آج کے الیکٹرانک دور میں اس میں بعض لحاظ سے شدت آگئی ہے۔انحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ مفتری، ساحر ، مجنون ، مسحور، خال، جابر ، ظالم ، ابتر اور نہ جانے کن کن الفاظ کے ساتھ مطعون کیا گیا ہے اور آپ کی آفاقی اور پاکیزہ تعلیمات اور اسوہ حسنہ پر طرح طرح کے اعتراضات کا سلسلہ روز اول سے تا امروز جاری ہے۔مثلاً یہ آپ اپنی وحی اور رسالت کے بارہ میں تشکی تھے اور یہ وحی رحمانی نہیں بلکہ شیطانی تھی ، آپ نے علماء