آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 122
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 122 باب دوم ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ نَ وَإِن لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَ الكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيم فَسَتُصِرَ وَيُنصَرُونَ ) بايكُمُ الْمَفْتُود (قلم (۲) لوگ تجھے پاگل کہتے ہیں مگر ہم دوات اور قلم کو تیری سچائی کے لئے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔پاگل آخر کسے کہتے ہیں؟ اسے جس کی عقل عام انسانوں کی عقل کی سطح سے نیچے ہوتی ہے۔ورنہ پاگلوں میں بھی کچھ نہ کچھ عقل تو ہوتی ہے۔وہ کھانا کھاتے اور کپڑا پہنتے اور پانی پیتے ہیں۔پاگل انہیں اس لئے کہتے ہیں کہ ادنی معیار عقل جو قرار دیا جاتا ہے اس سے ان کی عقل کم ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم لے کو پاگل کہنے والوں کے متعلق فرماتا ہے تم اسے پاگل کہتے ہو مگر سب سے زیادہ عقل مند لکھنے پڑھنے والے عالم سمجھے جاتے ہیں اور مصفین کو بڑا دانا تسلیم کیا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں ان عقلمندوں کی باتیں مقابلہ کے لئے لاؤ۔دنیا کی تمام کتابیں جواب لکھی جاچکی ہیں انہیں اکٹھا کر کے لاؤ۔یہ نہیں فرمایا کہ جو اپنی طرف سے لوگوں نے لکھی ہیں بلکہ فرمایا جو لکھی گئی ہیں۔کو یا مذ ہبی اور آسمانی کتا بیں بھی لے آؤیا اعلیٰ درجہ کے علوم کی کتابیں جو لائبریریوں میں محفوظ رکھی جاتی ہیں وہ نکال کر لاؤ۔اگر یہ سب کی سب کتابیں اس کے مقابلہ میں بیچ ثابت ہوں تو انہیں مانا چاہئے کہ ما انت بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تو مجنون نہیں ہے۔دیکھو یہ کتنا بی ادعمومی ہے اور کتنی زبر دست دلیل ہے۔یہ اس زمانہ کے لوگوں کو دلیل دی۔اور بعد میں آنے والوں کو یہ دلیل دی وان لَكَ لآخرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ آئندہ بھی جولوگ تجھے پاگل کہیں گے ہم انہیں کہیں گے محمد ( ﷺ ) اب تو تمہارے سامنے نہیں مگر اس کے کارناموں کے نتائج تمہارے سامنے ہیں۔پاگل جو کام کرتا ہے اس کی کوئی جزا نہیں ہوتی۔کیا جب کوئی پاگل بادشاہ بن جاتا ہے تو اسے کوئی فیس ادا کیا کرتا ہے؟ یا ڈاکٹر بن جاتا ہے تو اس صيا الله سے کوئی علاج کراتا ہے؟ یا کوئی نبی بنتا ہے تو کوئی اس کا مرید بنتا ہے ؟ مگر رسول کریم میے کے متعلق فرمایا کہ ہم اس کے کاموں کا وہ اجر دیں گے جو بھی کاٹا نہیں جائے گا۔کوئی زمانہ ایسا نہیں