آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 121 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 121

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 121 باب دوم ہے۔مگر یہ تو کہتا ہے کہ میں تم سے کچھ نہیں لیتا۔نہ کچھ مانگتا ہوں۔پس شاعری اور اس کا لایا ہوا کلام آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔سوم۔پھر اس میں ذکر ہے حالانکہ شعر ذ کر نہیں ہوتا۔یعنی شاعر اندرونی جذبات کو ابھارتا ہے۔شہوت اور حسن پرستی کا ذکر آتا ہے مگر یہ ایسی باتوں کی مذمت کرتا ہے۔چہارم۔پھر یہ ایسا کلام ہے جو فطرت کے اعلیٰ محاسن کو بیدار کر کے جن کی فطرت صحیح ہوتی ہے انہیں بدیوں سے بچاتا ہے اور جو مردہ ہوتے ہیں ان پر حجت تمام کرتا ہے حالانکہ شاعر جذبات بہیمیہ کو ابھارتا ہے۔پس اسے مجازی طور پر بھی شعر نہیں کہہ سکتے۔“ انوارالعلوم جلد ۲ صفحه ۴۳۸ تا ۴۳۹) ☆ مجنون، پریشان خوا میں آنے ، ساحر مسحور ہونے کا اعتراض ان اعتراضات کے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: یں سب سے پہلے جنون کے اعتراض کو لیتا ہوں۔کیونکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی اتنی پاکیزہ تھی کہ منکر اس کے متعلق کوئی حرف گیری نہیں کر سکتے تھے۔اس لئے جب آپ کا کلام سنتے تو یہ نہ کہہ سکتے کہ آپ سجھوٹے ہیں بلکہ یہ کہتے کہ پاگل ہے۔چونکہ مشرکانہ خیالات ان لوگوں کے دلوں میں گڑے ہوئے تھے۔ادھر وہ سمجھتے تھے کہ محمد (ﷺ) جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ان دونوں باتوں کے تصادم سے یہ خیال پیدا ہو جاتا کہ اس کی عقل ماری گئی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَقَالُوا يَاأَيُّهَا الَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونَ (الجر) جب نے قرآن پیش کیا تو لوگوں نے حیران ہو کر کہ اب کس طرح انکار کریں یہ کہہ دیا کہ اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ مجھ پر خدا کا کلام اترا تیرا دماغ پھر گیا ہے اور تو پاگل ہو گیا ہے۔اس کا جواب قرآن کریم میں اس طرح دیا گیا ہے کہ: