آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 120 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 120

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 120 باب دوم بات اس کے عمل میں ہے وہی اس کی زبان پر ہے پس تمہارا یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شاعر ہے محض حقائق پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔اگر تم غور کرو تو تمہیں نظر آئے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شعراء کے کلام اور ان کے کردار میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے اور دونوں کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔☆ ( تفسیر کبیر جلد ۷ ص ۳۰۱_۳۰۴) ایک دوسرے مقام پر اس اعتراض کا جواب حضرت مصلح موعود ان الفاظ میں دیتے ہیں: ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آپ شاعر ہیں۔چنانچہ سورۃ انبیا ء رکوع اول میں آتا ہے بل هُوَ شَاعِر کہ یہ صحیح باتیں بیان کر کے لوگوں پر اثر ڈال لیتا ہے۔اس کا جواب سورۃ یاسین رکوع ۵ میں یہ دیا کہ: وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعَرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَ وَ قُرْآنٌ مُّبِينٌ نٌ النذر من كانَ حَيًّا وَ يَحِقُ الْقَوْلُ عَلَى الكَفِرِينَ (لیس: ۷۰،اے ) یعنی ہم نے اسے شعر نہیں سکھایا اور یہ تو اس کی شان کے مطابق بھی نہیں ہے۔یہ تو دسحر اور قران مین ہے۔کھول کھول کر باتیں سنانے والا ہے۔یہ اس لئے نازل کیا گیا تا کہ اسے جس میں روحانی زندگی ہے ڈرائے اور کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اول قرآن شعر نہیں۔ان لوگوں کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ نثر کو شعر کہتے ہیں۔دوم اگر کہیں کہ مجازی معنوں میں شعر کہتے ہیں کیونکہ شعر کے معنی ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو اندر سے باہر آئے اور شعر کو اس لئے شعر کہا جاتا ہے کہ وہ جذبات کو ابھارتا ہے تو اس کا جواب یہ دیا کہ وَمَا يَنْبَغِی لَهُ یہ تو اس کی شان کے ہی مطابق نہیں کہ اس قسم کی با تیں کرے اس کی ساری زندگی دیکھ لو۔شاعر کی غرض اپنے آپ کو مشہور کرنا ہوتی ہے مگر یہ تو کہتا ہے مثلکم میں تمہارے جیسا ہی انسان ہوں۔پھر شاعران لوگوں کی مدح کرتا ہے جن سے اس نے کچھ حاصل کرنا ہوتا