آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 119
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 119 باب دوم حیران ہوا کہ میں کیا کروں شعر کہنے کی اس میں قابلیت نہیں تھی۔مگر طبیعت لطیفہ سنج تھی۔جب سب شاعر اپنے اپنے قصائد سنا چکے اور بادشاہ سے انعام لے کر گھروں کو روانہ ہو گئے تو بادشاہ اس سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا۔اب آپ قصیدہ شروع کریں وہ کہنے لگا کہ حضور میں شاعر نہیں ہوں۔بادشاہ نے پو چھا آپ یہاں کیوں آئے ہیں وہ کہنے لگا حضور میں وہی ہوں جس کا قرآن کریم میں اسی طرح ذکر آتا ہے کہ وَالشَّعَرَاءُ يَشْعُهم القانون۔(الشعراء: ۲۲۵) شاعروں کے يَتَّبِعُهُمُ پیچھے غاوی آیا کرتے ہیں۔وہ شاعر تھے اور میں خاوی ہوں۔بادشاہ کو اس کا یہ لطیفہ پسند آگیا اور اس نے حکم دے دیا کہ اسے بھی کچھا نعام دے دیا جائے۔اب یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شاعر کے پیچھے چلنے والے عمو با گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں کیونکہ شاعر کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں کبھی کچھ۔ان کا کوئی اصول نہیں ہوتا کبھی ہزلیہ کلام سے لوگوں کو ہنساتے ہیں۔کبھی شہادت امام حسین بکا واقعہ لکھ کر لوگوں کو رلاتے ہیں کبھی مدحیہ قصائد پڑھتے ہیں اور کبھی اس کی ہجو کرنا شروع کر دیتے ہیں۔غرض ہر جنگل میں سرگردان پھرتے ہیں۔کوئی ایک مقصد اور مدعا ہے لے کر کھڑے نہیں ہوتے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا میں تو حید پھیلانے کیلئے آیا ہے اور ہی ایک مقصد ہے جو رات اور دن اس کے دماغ پر حاوی رہتا ہے اور اسی کیلئے وہ تکلیفیں اٹھا رہا ہے۔پھر تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ ایک شاعر ہے اگر شاعر ہوتا تو اس کا بھی کوئی مقصد نہ ہوتا۔جدھر لوگوں کی اکثریت ہوتی ادھر ہی چل پڑتا اور ان کو خوش کرنے کی کوشش کرتا مگر اس نے تو سب دنیا کو اپنا مخالف بنالیا ہے اور ہر ایک کو تو حید کی طرف لانے کی کوشش کر رہا ہے پھر یہ شاعر کس طرح ہوا؟ پھر فرمایا ہے وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ (الشعراء: ۲۲۷) شاعروں میں ایک یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ ان کا قول اور ہوتا ہے اور فعل اور۔اور روہ جو کچھ منہ سے کہتے ہیں عملا وہ ایسا نہیں کرتے۔یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں لوگوں کو اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں تو خودشرا میں پیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتے ہیں تو آپ نماز اور روزہ کے قریب بھی نہیں جاتے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو قول ہے وہی اس کا عمل ہے اور جو