آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 118
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 118 باب دوم میں سرگردان ہوں۔حالانکہ وہ اچھے بھلے دنیا کے کام کر رہے ہوتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں معشوق ہر وقت ہمارے دل میں ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ میں اپنے محبوب کے لئے خون کے آنسو پی رہا ہوں۔حالانکہ وہ آرام سے زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔نہ مر رہے ہوتے ہیں نہ خون پی رہے ہوتے ہیں۔ان کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ لوگوں کے جذبات کو ابھارا جائے چاہے وہ ابھارنا اچھے رنگ میں ہو یا برے رنگ میں۔کبھی وہ خوشی کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی بھی کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فنی گُل وَادٍ يُقِيمُونَ۔یعنی وہ ہر جنگل میں اور ہر وادی میں سرگردان پھرتے ہیں۔ان کو کسی جگہ بھی جذبات کے ابھارنے کا سامان مل جائے چاہے کہیں سے ملے لے لیتے ہیں۔وہ عاشقوں کو بھی خوش کرتے ہیں اور معشوقوں کو بھی۔وہ غریبوں کو بھی خوش کرتے ہیں اور امیروں کو بھی۔وہ مظلوموں کو بھی خوش کرتے ہیں اور ظالموں کو بھی۔وہ غالب کو بھی خوش کرتے ہیں اور مغلوب کو بھی۔ان کو تو ہر کسی کی خوشی مطلوب ہوتی ہے چاہے ان کو اپنے شعروں میں کتنا بھی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے۔وہ چاہتے ہیں کہ کوئی غریب ہمارے شعر پڑھے یا امیر۔ظالم پڑھے یا مظلوم - عاشق پڑھے یا معشوق ، غالب پڑھے یا مغلوب سب کے سب خوش ہو جائیں چاہے ان کے اشعار حقیقت سے کتنے ہی دور ہوں۔پس شعراء کا مقصد اور مدعا یہی ہوتا ہے کہ ہر خاص و عام ان سے خوش ہو جائے اور ان کے شعروں کی داد دے۔چنانچہ بھی وہ کسی امیر کی تعریف کرنے لگ جاتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ کچھ روپے مل جائیں یا کوئی وظیفہ مقرر ہو جائے ورنہ اس کی ذات سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے جو سخت بھوکا تھا ایک دفعہ چند لوگوں کو جوا اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہیں جاتے دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ غالباً دعوت پر جارہے ہیں میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔جب یہ کھانا کھانے لگیں گے تو میں بھی وہیں سے کھانا کھالوں گا۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔جاتے جاتے وہ بادشاہ کے دربار میں جا پہنچے اور انہوں نے اس کی تعریف میں قصائد پڑھنے شروع کر دیئے۔تب اسے پتہ لگا کہ یہ تو شاعر ہیں اور اپنے اپنے قصائد سنانے آئے ہیں۔چنانچہ ہر شاعر نے اپنی اپنی باری پر اٹھ کر قصیدہ سنانا شروع کر دیا۔یہ اب سخت