آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 116
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 116 باب دوم کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں:۔کفار مکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سن کر اپنے جن خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے قرآن کریم نے ان کا مختلف مقامات میں ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ کبھی آپ کو مجنون کہنے لگ جاتے تھے۔کبھی کہتے کہ اسے پریشان خواہیں آتی ہیں۔جن کی وجہ سے یہ ایسا دعوی کر بیٹھا ہے۔کبھی کہتے یہ ساحر ہے کبھی کہتے کہ یہ خود تو نیک بخت ہے۔لیکن کسی اور نے اس پر جادو کر دیا ہے گویا یہ ساحر نہیں بلکہ مسحور ہے۔کبھی کہتے یہ کا ہن ہے۔کبھی کہتے کہ اسے کوئی اور شخص باتیں سکھا دیتا ہے یہ کلام اس کا اپنا نہیں۔کبھی کہتے کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے کبھی کہتے یہ مفتری اور کذاب ہے اور بھی کہتے کہ یہ شاعر ہے۔چنانچہ سورۃ انبیاء میں اللہ تعالی ان میں سے بعض اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔بَلْ قَالُوا أَضْغَاتُ أَحْلَام بي افترمهُ بَلْ هُوَ شَاعِرُ * (الانبياء (1) یعنی مخالف کہتے ہیں کہ یہ کلام تو پریشان : خواہیں ہیں بلکہ پریشان خواہیں بھی نہیں اس نے دیدہ و دانستہ یہ باتیں اپنے پاس سے بنائی ہیں بلکہ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ شاعرانہ مزاج رکھنے والا آدمی ہے جس کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات اُٹھتے رہتے ہیں اور جس طرح مشہور اور قادرالکلام شعراء کے اشعار میں بڑی بھاری فصاحت و بلاغت اور بلند پردازی پائی جاتی ہے۔اسی طرح اس کلام بھی شاعرانہ فصاحت و بلاغت کا حامل ہے۔پس در حقیقت یہ بھی ایک شاعر ہے کوئی روحانی آدمی نہیں۔اللہ تعالی زیر تفسیر آیات میں کفار کے اس ادعا کو بھی باطل ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تمہارا یہ خیال بھی کلی طور پر غلط ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ شعراء پر ایسے لوگ ہی گرویدہ ہوتے ہیں جس کا تقومی اور روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔چونکہ شعروں میں عموماً عشق اور محبت نفسانیہ اور شہوانیہ کا ذکر کرتے ہیں۔اس لئے ایسے ہی لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں جو خود بھی تقوی سے دور ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بعض آوارہ نو جوانوں کو ان سے سینکڑوں اشعار یاد ہوتے ہیں اور بعض شاعروں کی غزلیں رنڈیاں گاتی ہیں کیونکہ ان میں خدا اور اس کے رسول کا کہیں ذکر نہیں ہوتا بلکہ عموماً ان کے ذریعہ نوجوانوں کے شہوانی جذبات کو تحریک دی جاتی ہیں اور