آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 115 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 115

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 115 باب دوم آپ پر جادو کیا ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر بھی ہو گیا تھا بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس قسم کا ہو جو دوسرے سے شدید عنا درکھتا ہو تو اس کی توجہ دوسرے شخص پر مرکوز ہو جاتی ہے۔اور عناد جس طرح مسمریزم کا دوسرے پر اثر پڑتا ہے اسی طرح جادو کا بھی ایک اثر پڑتا ہے۔گویا یہ بھی مسمریزم کی ایک قسم ہوتی ہے جس میں دوسرے پر توجہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی طرح یہودیوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوشش کی۔اور بعض دفعہ دشمن جب خاص طور پر کسی امر کے متعلق اجتماع خیال کرتا ہے تو اس کا اثر مسمریزم کے طور پر دوسرے پر بھی ہو جاتا ہے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کر دیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھا وہ باطل ہو گیا ہے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت عطا فرما دی۔خلاصہ کلام یہ کہ یہودی یہ یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ہے اس وجہ سے طبعی طور پر ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی کہ آپ بیمار ہو جائیں۔چنانچہ اس کا اثر آپ کے جسم پر بھی پڑا۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے حقیقت ظاہر کر دی اور آپ نے ان کی چیزیں دفن کر دیں تو یہودیوں کی وہ تو جہ ہٹ گئی اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحت عطا فرما دی۔اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو اُن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا وہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ان تمام باتوں کا علم دے دیا گیا جو یہودی آپ کے خلاف کر رہے تھے پس آپ کو غیب کی باتوں کا معلوم ہو جاتا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپ کے سچا رسول ہونے کی واضح اور بین دلیل ہے۔(تفسیر کبیر جلدہ صفحہ ۵۳۹ تا۵۴۲) آپ پر شاعر ہونے کا الزام کفار مکہ نے آنحضور پر شاعر ہونے کا بھی الزام لگایا اس الزام کے رد میں سورۃ الشعراء