آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 114 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 114

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 114 باب دوم کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر کے کہا۔یا غالباً یہ فرمایا کہ پاؤں کے پاس بیٹھنے والے نے سمر کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص ( یعنی محمد رسول اللہ ) کو کیا تکلیف ہے تو دوسرے نے جواب دیا کہ جادو کیا گیا ہے۔اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے تو اس ہے۔نے جواب دیا لبید بن الاعصم یہودی نے۔تب پہلے نے کہا کہ کس چیز میں جادو کیا گیا ہے تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھی اور سر کے بالوں پر جو کھجور کے خوشہ کے اندر ہے۔پہلے نے پوچھا یہ چیزیں کہاں ہیں تو دوسرے نے کہا یہ ذی اروان کے کنوئیں میں ہیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت کنویں کے پاس تشریف لے گئے۔پھر فرمایا اے عائشہ! اللہ کی قسم کنویں کا پانی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مہندی کے نچوڑ کی طرح سُرخ ہوتا ہے ( معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں یہ رواج تھا کہ جب وہ کسی پر جادوٹو نا کرتے تھے تو مہندی یا اسی قسم کی کوئی اور چیز پانی میں ڈال دیتے تھے۔یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ جادو کے زور سے پانی کو سرخ کیا گیا ہے) اور وہاں کی کھجور میں ایسی تھیں جیسے شیاطین یعنی سانپوں کے سر ( اس میں کھجور کے گا بھوں کو سانپوں کے سروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے یعنی کھجور میں گا بھوں والی تھیں)۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے اس چیز کو جس پر جادو کیا گیا تھا جلا کیوں نہ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جب اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ کوئی ایسی بات کروں جس سے شر کھڑا ہو۔( یعنی یہو دیوں کو یہ شور مچانے کا موقع ملے کہ انہوں نے ہماری چیزوں کو جلا دیا ہے ) اس لئے میں نے حکم دیا کہ ان اشیاء کو دفن کر دیا جائے چنانچہ ان کو دبا دیا گیا ہے۔حضرت عائشہ کی روایت میں جن دومر دوں کا ذکر آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوفر شتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے۔اگر وہ انسان ہوتے تو حضرت عائشہ کو بھی نظر آجاتے۔یہ روایت جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ سے خبر دی کہ یہودیوں نے