آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 113 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 113

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 113 باب دوم (بنی اسرائیل : ۲۸) ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت ﷺ پر (معاذ اللہ ) کر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا۔اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضرت ﷺ کا یہ حال ہے تو پھر امت کا کیا ٹھکانا ؟ وہ تو پھر فرق ہوگئی۔معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی ﷺ کو تمام انبیاء میں شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔(ملفوظات جلد ۵ صفحه ۳۴۸ تا ۱۳۴۹ پدیشن ۲۰۰۳ء) ☆ یہ اعتراض کہ یہود نے آپ پر جادو کیا اور اس کے اثر سے آپ بیمار ہو گئے۔اس قصہ کی حقیقت حضرت مصلح موعود دورۃ الفلق کی تفسیر میں یوں بیان فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیمار ہونا اور لوگوں کا یہ سمجھنا کہ آپ پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا ہے، یہ واقعہ جن الفاظ میں روایت کیا گیا ہے وہ الفاظ یہ ہیں:۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ سُجرَ رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتى أنه ليُخَيَّلُ إِلَيْهِ أنه فعل الشيءَ وَلَمْ يَكُن فَعَلَه۔۔۔۔(روت العالي) چونکہ مفسرین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو تر بیچ دی ہے اس لئے ہم صرف اسی روایت کا ترجمہ کرتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہو دیوں کی طرف سے جادو کیا گیا اور اس کا اثر یہاں تک ہوا کہ آپ بعض اوقات یہ سمجھتے تھے کہ آپ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ایک دن یا ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی۔پھر دُعا کی اور پھر دُعا کی۔پھر فرمایا اے عائشہ! اللہ تعالیٰ سے جو کچھ میں نے مانگا تھا وہ اس نے مجھے دے دیا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ وہ کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس دو آدمی آئے۔ایک میرے گھر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔پھر وہ شخص جو میرے سر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے پاؤں