آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 112
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 112 باب دوم بھی مجنون کہہ کر الہی سلسلوں کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں مگر آخر خدا کے رسول ہی کامیاب ہوتے ہیں اور مخالفین مجنون کہنے والے نا کامی اور نا مرادی کا منہ دیکھتے ہیں۔(نظیر کیر جلدا سفح ۱۵۸، ۱۵۹) آپ پر جادو کے اثر کی حقیقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے۔بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے۔جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتى (٤٠) دیکھو حضرت موسی کے مقابل پر جادو تھا۔آخر موسٹی غالب ہوا کہ نہیں؟ یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مقابلہ پر جادو غالب آگیا۔ہم اس کو کبھی نہیں مان سکتے۔آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے برخلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالیشان نبی پر جادو اثر کر گیا ہو۔ایسی باتیں کہ اس جادو کی ناشیر سے (معاذ اللہ ) آنحضرت ﷺ کا حافظہ جاتا رہا۔یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا۔کسی صورت میں مسیح نہیں ہو سکتیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملا دی ہیں۔کو ہم نظیر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے بر خلاف آنحضرت ﷺ کی عصمت کے آ بر خلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا۔کوانہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے۔وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔آثار نبی جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے جو ماننے والی ، ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے۔ایسی بات کہ آنحضرت ﷺ پر (معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا۔اس سے تو ایمان اٹھ جاتا ہے۔خدا تعالی فرماتا ہے اِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا