آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 110 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 110

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 110 باب دوم اور یہ بات ہر نبی میں پائی جاتی ہے۔کوئی نبی نہیں جس نے وہ باتیں نہ کی ہوں جن کو اُس زمانہ کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے۔( تفسیر کبیر جلد ۴ صفحه ۱ تا ۱۳ ) ☆ سورۃ المومنون کی آیت ۲۶ کی تشریح میں حضرت مصلح موعو داس اعتراض کا جواب یوں بیان فرماتے ہیں: "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مخالفین نے مجنون کہا۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر جن آتے تھے۔عیسائی پادری جب دیکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفین نے مجنون کہا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور کہتے ہیں کہ اگر آپ میں کوئی دماغی نقص نہیں تھا تو دشمن نے آپ کو مجنون کیوں کہا؟ وہ اس امر کو بھول جاتے ہیں کہ خود مسیح جن کو وہ ابن اللہ قرار دیتے ہیں اُن کو بھی لوگوں نے دیوانہ اور مجنون قرار دیا تھا۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ: ان باتوں کے سبب یہودیوں میں پھر اختلاف ہوا۔ان میں بہتیرے تو کہنے لگے کہ اس میں بد روح ہے (یعنی اس پر جن آتے ہیں ) اور وہ دیوانہ ہے۔تم اُس کی کیوں سنتے ہو۔“ ( یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۰۱۹ ) پھر پولوس کو وہ رسول قرار دیتے ہیں اور عہد نامہ جدید بتاتا ہے کہ اُس کو بھی دیوانہ قرار دیا گیا۔چنانچہ لکھا ہے:۔جب وہ اس طرح جواب دہی کر رہا تھا تو فیس نے بڑی آواز سے کہا۔اے پولوس: تو دیوانہ ہے۔بہت علم نے تجھے دیوانہ کر دیا ہے۔“ (اعمال باب ۲۲ - آیت ۲۴) اب اگر لوگوں کے دیوانہ اور مجنون کہنے کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی دماغی تنقص تسلیم کرنا جائز ہے تو عیسائی کیوں اپنے مسیح کو بھی مجنون نہیں کہتے اور کیوں پولوس کو بھی دیوانہ قرار نہیں دیتے۔اور اگر مسیح لوگوں کے مجنون کہنے کی وجہ سے واقعہ میں کوئی دماغی نقص اپنے اندر رکھتا تھا تو وہ دنیا کا نجات دہندہ کس طرح ہو گیا۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا اگر انبیاء کو مجنون کہتی ہے تو صرف اس لئے کہ وہ ایسی تعلیم پیش