آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 109 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 109

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 109 باب دوم دورے کی حالت میں کسی نظارہ کو دیکھ کر با ترتیب یا درکھ سکتا ہے۔اور پھر مرگی کے دورے والے کی آنکھیں، شکل اور عقل اور دوسرے حالات سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ مرگی کا مریض ہے۔بلا وجہ معمولی سی تکالیف کو بار بار دہرانا ، خالی الذہن نظر آنا اور معمولی معمولی باتوں پر غصہ کرنا ایسے شخص کی عادت میں داخل ہو جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسی کوئی بات پائی نہ جاتی تھی۔عیسائی پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی وجہ نہ تھی تو ساری قوم انہیں کیوں مجنون کہہ رہی تھی۔میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں یسوع نامی ایک اور آدمی بھی پیدا کیا ہے جس کو لوگ آسیب زدہ قرار دیتے تھے اور مجنون کہتے تھے۔چنانچہ یوحنا 20- 10/19 میں لکھا ہے کہ: ان باتوں کے سبب یہودیوں میں پھر اختلاف ہوا۔ان میں بہتیرے تو کہنے لگے کہ اس میں بد روح ہے اور وہ دیوانہ ہے۔تم اس کی کیوں سنتے ہو“ اس بزرگ کے ایک شاگر پولوس نامی کی نسبت بھی لکھا ہے : جب وہ اس طرح جوابدہی کر رہا تھا تو فیکس نے بڑی آواز سے کہا اے پولوس تو دیوانہ ہے۔بہت علم نے تجھے دیوانہ کر دیا ہے۔(اعمال 22/24) اب عیسائیوں کو چاہئے کہ وہ پہلے مسیح اور پولوس کو دیوانہ کہنے کا سبب مرگی کا دورہ ثابت کریں اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی طرف توجہ کریں کیونکہ اپنے گھر کا کام مقدم ہوتا ہے۔کاش یه مسیحی معترضین انصاف سے کام لیتے اور مخمور کرتے تو اگر حضرت مسیح کو بغیر مرگی کے دوروں کے صرف وعظ سن کر پاگل کہا جا سکتا ہے۔تو کیوں رُبمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مسلمین کے عظیم الشان دعوی کرنے والے کو روحانی عالم سے نا واقف پاگل نہیں کہہ سکتے تھے۔مسیحیوں کا یہ اعتراض اور بھی قابل تعجب ہو جاتا ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگلی آیات میں کفار کی پیش کردہ وجہ بھی بیان ہے جس کی بنا پر وہ آپ پر جنون کا الزام لگاتے تھے۔وہ اس الزام کی وجہ مرگی کو بیان نہیں کرتے بلکہ آپ کے دعاوی کو بعید از عقل ہونے کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں