آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 108
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 108 باب دوم جگہ یہ معنی مراد نہیں ہو سکتے اور نہ ہیں (-) مجنون کے معنی پاگل یا دیوانہ ہوتے ہیں۔مجنون کے معنی اقرب الموارد " میں لکھے ہیں مَنْ زَالَ عَقله أو فسد جس کی عقل جاتی رہے یا عقل میں خرابی آجائے۔(تفصیل کے لئے دیکھو صل لغات ) اصل میں یور چین مصنفین نے اپنے عیب کو چھپانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذمے یہ الزام لگانے کی کوشش کی ہے کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ یہودی حضرت مسیح علیہ السلام کو کہتے تھے کہ اس پر جن سوار ہے۔مگر انہوں نے اتنا غور نہ کیا کہ وہاں کہنے والے یہودی ہیں اور اس جگہ مشرکین۔یہودیوں کے نزدیک تو جن ایک ناپاک روح ہے جس پر وہ سوار ہو۔اس کے معنے ہیں کہ وہ گندا ہے۔مگر مشرکین کے ہاں تو جنوں کی پوجا کی جاتی تھی۔اگر کفار کا یہی مطلب ہوتا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت نہ کرتے بلکہ آپ سے ڈرتے۔پھر عیسائی معترضین نے دوسرا ظلم یہ کیا کہ وہ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل مکہ جو مجنون کہتے تھے اس کا ضرور کوئی سبب چاہئے اور وہ سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ کو نعوذباللہ من ذالک مرگی کے دورے پڑتے تھے۔اس کی تائید میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ واقعہ نقل کیا ہے جو آپ کو حلیمہ دائی کے ہاں بقول بعض مؤرخین پیش آیا تھا۔وہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ آپ نے جنگل میں دیکھا ( جہاں بعض بڑے بچے جانور چرا رہے تھے ) کہ دو آدمی براق لباس پہنے ہوئے آئے ہیں۔انہوں نے آپ کوگر الیا اور آپ کے سینہ کو چاک کیا اور کوئی سیاہ سی چیز اندر سے نکال کر پھینک دی۔عیسائی اس واقعہ سے استدلال کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بچے تھے اس لئے جھوٹ تو نہیں بولتے تھے۔لہذا مرگی کا دورہ ماننا پڑے گا۔میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا کہ مرگی کے دورہ میں انسان اس قسم کے واقعات اور نظارے دیکھتا ہو چتا اور انہیں یا درکھ سکتا ہے یا کہ نہیں۔میں نے ڈاکٹری کتا ہیں دیکھی ہیں جن میں اس مرض کی اقسام اور ان کی کیفیات بیان ہیں۔ان میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ انسان اس