آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 107
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 107 باب دوم بتایا گیا ہے کہ علم غیب شیطانوں کو نہیں ہوتا۔اگر جھوٹے ملہمین کسی کی بات کو اپنی طرف منسوب کر کے وہ غیب دان بننا بھی چاہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دے کر تباہ کر دیتا ہے پس جبکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب کے بیان کرنے میں بھیل نہیں یعنی کثرت سے غیب بیان کرتے ہیں تو ان کا تعلق شیطان سے کس طرح ہو سکتا ہے وہ تو لازماً خدا تعالیٰ کے مامور ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ایک دلیل اور بھی اس جگہ دی گئی ہے اور وہ یہ کہ زچینہ دھتکارے ہوئے کو کہتے ہیں۔پس اس جگہ کفار کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ مدعی تو روز بروز ترقی کر رہا ہے جو س شیطان سے تعلق رکھتا ہے وہ تو ذلیل ہوا کرتا ہے نہ کہ ترقی کرتا جاتا ہے۔☆ ( تفسیر کبیر جلد ۸ صفحه ۶ ۲۳ تا ۲۳۹) سورۃ الحجر کی آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعو د عیسائیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔انک مجنون۔اس کے متعلق عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ میں ضرور کوئی جنون کا مادہ تھا ورنہ عرب لوگ آپ کو کیوں مجنون کہتے ؟ اچھے بھلے آدمی کو کون پاگل کہتا ہے؟ اس اعتراض کے بیان میں انہوں نے پہلے تو مجنون کے معنوں کی تعیین میں غلطی کی ہے۔سیل اس آیت کا ترجمہ یوں کرتا ہے: ضرور تجھ پر کوئی شیطان قابض ہے۔روڈ ویل اس کا ترجمہ یوں کرتا ہے: تجھ پر یقینا کسی جن کا سایہ ہے۔پامرلکھتا ہے: و تو بری روحوں کے قبضہ میں ہے۔THOU ART CERTAINLY POSSESSED BY A DE VIL THOU ART SURELY POSSESSED BY A JINN۔VERILY THOU ART POSSESSED گویا مجنون ان کے نزدیک وہ شخص ہوتا ہے جس پر کوئی شیطان یا جن قابض ہو حالانکہ اس