آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 106
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 106 باب دوم اسلام کی ترقی وابستہ ہوگی لیکن اگر یہ پاگلوں والی بات ہوتی تو اس کی صداقت کا کوئی اور ثبوت نہ ہوتا۔لیکن جب اس کی پیشگوئیاں بکثرت ایسی موجود ہیں جو پوری ہو چکی ہیں تو تمہیں مانا پڑے گا کہ یہ پاگل نہیں ہے اور پھر جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے اس کے اخلاق اور اس کی پہلی زندگی کے حالات مزید ثبوت ہیں اس بات کا کہ یہ مجنون نہیں ہے۔پھر فرمایا : یہاں ایک نہایت لطیف اور زیر دست ثبوت پیش کیا گیا ہے جو صادق اور کاذب مدعی میں ما بہ الامتیاز کا کام دیتا ہے مگر چونکہ یہ ثبوت باریک ہوتا ہے اس لئے جب تک ایک ماہر فن اس دلیل کو صحیح طور پر پیش نہ کرے دوسرا شخص سمجھ نہیں سکتا۔ریچیشہ کے معنے ہوتے ہیں دھتکارا ہواپس وَمَا هُوَ بِقَولِ شَيْطنٍ رَّجِيم النور: ۲۲) کے یہ معنے ہوئے کہ یہ دھتکارے ہوئے شیطان کا قول نہیں ہے۔یعنی دو ہی الزام کفار لگا سکتے ہیں ایک یہ کہ نعوذباللہ آپ پاگل ہیں اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے۔دوسرے یہ کہ نعوذ باللہ آپ بد اور شیطان سے تعلق رکھتے ہیں اس کا بھی وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِین سے رو ہو گیا کیونکہ جس کی کئی پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہوں وہ شیطان سے تعلق رکھنے والا کس طرح کہلا سکتا ہے۔شیطان کو علم غیب کہاں سے آیا، وہ دھتکارا ہوا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس مضمون کو کو یوں بیان فرمایا ہے۔إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِرِينَةِ الْكَوَاكِبةُ وَحِفْظاً مِنْ كُلِّ شَيْطَنِ نَارِينَ لا يَسْمَعُونَ إِلَى الْمَلا الأغلى ويُقْدَفُونَ مِن كُل جَانِبِ دُخوَرًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبَة إِلَّا مَن خَطف الخطقة الْخَظَقَةَ فَاتْبَعَهُ شِهَاب ثاقب ال : 116) یعنی ہم نے ورلے آسمان کوستاروں کے ساتھ 2: مزین کیا ہے اور ہم نے اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ کیا ہے وہ خدا کے مقربوں کی بات نہیں سُن سکتے ( کجا یہ کہ خدا تعالیٰ کی بات سنیں ) اور ہر طرف سے اُن پر پتھراؤ ہوتا ہے تا کہ انہیں دور کر دیا جائے اور انہیں مستقل عذاب ملتا ہے۔ہاں اگر کوئی بات (مقربین سے ) اُچک لے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک چھید دینے والا ستارہ پھینکتا ہے جو اُ سے تباہ کر دیتا ہے پس اس آیت میں جوا