آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 105
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 105 باب دوم بحث ہوتی ہے کہ بتاؤ تمہاری کون کون سی پیشگوئی پوری ہوئی تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ تم مرزا صاحب کی فلاں بات مانتے ہو یا نہیں جس نے ابھی تین سو سال کے بعد پورا ہونا ہے جب تم اس بات کو مانتے ہو تو ہماری بات کیوں نہیں مان لیتے۔ہم انہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی صرف یہی ایک پیشگوئی ہوتی کہ تین سو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا تو یقینا یہ آپ کی صداقت کا کوئی قطعی ثبوت نہ تھا۔آپ کی صداقت کا ثبوت تو یہ ہے کہ آپ نے اس کے علاوہ اور بھی پیشگوئیاں کیں جو پوری ہو گئیں اُن پر قیاس کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی ایک دن پوری ہو جائے گی مگر تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تمہاری اب تک کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔جتنی پیشگوئیاں ہیں سب آئندہ زمانوں سے تعلق رکھتی ہیں چنانچہ جس قد رد می ہیں ان کا سارا زور اسی پر ہوتا ہے کہ اگر میں اُن کو مان لوں تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ میں ان کو کس طرح مان لوں جبکہ اُن کی صداقت کا کوئی ثبوت ہی نہیں۔تو فرماتا ہے وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ بے مدعی کو پہچانے کا یہ ایک زبر دست اصول ہے کہ اس کی بعض پیشگوئیاں قریب زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض بعید زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ روس کا عصا مجھے دیا جائے گا یا تین سو سال میں جماعت احمدیہ کا ساری دنیا پر غلبہ ہو جائے گا۔ان پیشگوئیوں کو دشمن دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ محض ڈھکو نسلے ہیں کون ان باتوں کو مان سکتا ہے۔ایسے لوگوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے کہ یہ غیب پر بخیل نہیں ہے اس نے صرف ایک یا دو خبریں نہیں دیں جو بھی صدیوں بعد پوری ہونے والی ہیں بلکہ یہ اور بھی کئی قسم کی خبریں دے چکا ہے جو پوری ہو چکی ہیں اُن کو دیکھتے ہوئے تم کیوں یہ تسلیم نہیں کرتے کہ جب وہ باتیں پوری ہو گئی ہیں تو یہ بات بھی پوری ہو جائے گی مجھے اچھی طرح یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آکر جب کوئی شخص کہتا کہ مجھے کوئی نشان دکھایا جائے تو آپ فرماتے پہلے نشانات سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ تمہیں اور نشان دکھایا جائے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمائی ہے کہ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ بظاہر تم اسے ایک پاگل کی بڑ قرار دیتے ہو کہ دور مشرق میں ایک مامور آئے گا جس کے ساتھ