آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 104 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 104

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 104 باب دوم سردار کہا کرتے تھے۔اور اپنا لیڈ ر تسلیم کرتے تھے۔اور بڑا عقلمند اورسمجھدار قرار دیتے تھے۔فرمایا: مجنون کے الزام کو رد کر کے اب بتاتا ہے کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور نبوت ایک لیے عرصہ تک کے لئے ہے تو وہ اس لیے عرصہ کے متعلق پیشگوئیاں کیوں نہ کرے۔وہ اپنے دعوی کی وجہ سے مجبور ہے کہ جو باتیں تم کو ڈورا اور خلاف عقل نظر آتی ہیں اُن پر روشنی ڈالے کیونکہ وہ باتیں اس کے زمانہ بعثت کے اندر شامل ہیں تمہارے لئے وہ زمانہ غیب ہے لیکن اس کے جہان پر وہ ظاہر ہے اور اس کی دنیا کے لئے بطو رافق مبین کے ہے جسے وہ دیکھ رہا ہے اور جن خبروں کو وہ بتا رہا ہے وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہیں۔مشرق کا استدلال اس سے ہوتا ہے کہ گوافق تو ہر جہت بعیدہ کو کہتے ہیں لیکن حد نظر جہاں آسمان اور زمین کو ملتے ہوئے دیکھتی ہے وہ ہر سمت افق تو ہوتی ہے مگر افق مبین نہیں ہوتی یعنی کھولنے اور ظاہر کرنے والی افق کھولنے اور ظاہر کرنے والی افق مشرق کی ہی ہوتی ہے جدھر سے سورج نکلتا ہے اور اند میروں کو پھاڑ دیتا ہے۔پس افق مبین کے الفاظ ادا کر کے نہ صرف زمانہ بعیدہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ مشرق کی طرف کے ظہور کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ اس کی بتائی ہوئی خبر میں گوتم کو عجیب معلوم ہوتی ہیں مگر تمہیں اسے مجنون کہنے کا حق نہیں ہے کیونکہ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنِ (انگور: ۲۵) اس نے غیب کی ایک ہی خبر نہیں دی کہ تم کہ دو کہ یہ تو پاگل ہے بلکہ یہ غیب پر بھیل نہیں ہے یعنی اس نے آئندہ حالات سے تعلق رکھنے والی بہت سی اہم خبریں دی ہیں جن میں سے کئی پوری بھی ہو چکی ہیں۔اگر ایک ہی خبر ہوتی جو اس نے دی ہوتی اور اگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ کہا ہوتا کہ چونکہ تیرہ سو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا اس لئے تم مجھے مان لو تو تم کہہ سکتے تھے کہ یہ پاگل ہے مگر اب تم یہ بات نہیں کر سکتے کیونکہ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنِ یہ پہلی خبر نہیں ہے جو اس نے دی ہو بلکہ اور بھی یہ بہت سی خبریں دے چکا ہے اور وہ خبر میں پوری بھی ہو چکی ہیں پس تم ان خبروں پر قیاس کر کے کہہ سکتے ہو کہ یہ بات بھی ایک دن پوری ہو جائے گی تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ تم اسے پاگل کہو۔آج کل جو چھوٹے مدعی کھڑے ہو گئے ہیں اُن سے جب ہماری