آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 103
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 103 باب دوم مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرو تو تمہیں ثواب ملے گا۔یہ تو پاگلوں والی بات ہے۔حضرت شعیب جب لوگوں سے کہتے کہ تم دوسروں کا مال نہ لوٹو۔اپنے مال کو نا جائز کاموں میں صرف نہ کرو تو آپ کی باتوں سے آپ کی قوم حیران ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ شعیب پاگل ہو گیا ہے۔اور دیوانوں کی ہی باتیں کرتا ہے۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لوگوں نے پاگل کہا جب آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ دنیا کے سامنے پیش کیا تو مسلمان سمجھ ہی نہ سکے کہ جب ۱۳۰۰ سال سے یہ مسئلہ امت محمدیہ کے اکابر پیش کرتے چلے آرہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو وہ فوت کس طرح ہو گئے۔(تفسیر کبیر جلد ۷ صفی ۱۰۷) ,, ☆ سورۃ التکویر کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود اس الزام کے رد میں بیان فرماتے ہیں: چونکہ ایسی پیشگوئیوں کو سُن کر بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ شخص جو ایسی باتیں کرتا ہے پاگل ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا اخلاق کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ومَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ (انگور (۲۳) تم اس شعبہ میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ پاگل ہے کیونکہ وہ صاحب کو ہے۔تمہارے ساتھ رہا ہے کہیں باہر سے نہیں آیا اور تم خود اس کی نیکی اور تقویٰ اور عقل اور اصابت رائے کے گواہ رہے ہو۔پھر اب کس وجہ سے اسے پاگل قرار دیتے ہو۔آخر عقل سے جنون کی طرف رجوع یا کسی صدمہ سے ہوتا ہے یا بیماری سے یا تدریجی طور پر ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ رہے ہیں۔اور ان میں سے کوئی بات بھی آپ میں نہیں پائی جاتی۔پھر ان کو پاگل تم کس طرح کہتے ہو۔یہ قرآن کریم کا معجزانہ کمال ہے کہ ایک لفظ میں دلیل بیان کر دیتا ہے۔اس جگہ صرف صاحِبُكُمْ کے مختصر سے لفظ سے مجنون ہونے کے الزام کی نفی کر دی۔یعنی اس طرف توجہ دلا کر کہ یہ تو تمہارا صاحب یعنی دوست اور مشیر کار اور امانتدار کہلاتا تھا۔یکدم اسے جنون آخر کہاں سے آیا اور اس دھوئی کے بعد اس کے مجنون ہونے کا فتقومی کیوں لگانے لگ گئے۔اس سے پہلے تو اسے اپنا آقا اور