آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 102
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 102 باب دوم کے ساتھ ایسے اچھے تعلق کہ آپ کے مریدوں نے حبشہ میں کس امن سے زندگی گزاری۔اور خود مکہ کے شر را نگیز رئیسوں میں کیسے مامون رہے اور پھر خدا سے ایسا تعلق کہ قرآن شریف جیسی خاتم الکتب کی وحی کے مہبط ہوئے کیا ایسا شخص مجنون ہو سکتا ہے۔جو تمام مدبران ملک کی تجویزوں اور تدبیروں کے مقابلہ میں اکیلا کامیاب ہوا۔(ضمیر اخبار بد ر قادیان ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ -) ☆ مجنون کے اعتراض کی ویبہ حضرت مصلح موعود سورۃ الشعراء کی آیت ۱۲۸ کی تفسیر میں انبیاء پر مجنون ہونے کے اعتراض کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔جب لوگ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ زمانہ کی رو کے بالکل خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہیں کسی قسم کی ہلاکت اور تباہی کی پر واہ ا نہیں تو وہ سمجھتے ہیں یہ لوگ پاگل ہیں اگر عقلمند ہوتے تو رائے عامہ کے خلاف اپنی آواز کیوں بلند کرتے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ جب مبعوث ہوئے اور آپ نے مکہ والوں کے سامنے یہ بات پیش کی کہ ایک خدا کی کی پرستش کرو تو عرب کے لوگوں جولات اور مناۃ اور عزئی کے پرس پرستار تھے ان کے لئے یہ بات حیرت کا موجب ہوئی اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ شخص تو پاگل ہے جو اتنے خداؤں کو ایک خدا قرار دے رہا ہے۔خدا تو کئی ہیں مگر یہ شخص کہتا ہے کہ صرف ایک ہی خدا ہے۔پس ان کی نگاہ میں آپ کی یہ بات نعوذ باللہ ایک پاگلا نہ ہڑ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔پھر رسول کریم ﷺ کو دنیا اس لئے بھی پاگل کہتی کہ آپ فرماتے تھے۔شراب نہ پیو ، جو نہ کھیلو اور دوسروں کے مال نہ لوٹو۔عرب کے لوگ کہتے تھے یہ کیسا آدمی ہے جو شراب سے منع کرتا ہے جو زندگی کا سرور ہے اور جوا کھیلنے اور مال لوٹنے سے منع کرتا ہے جو ایک فائدہ مند کام ہے۔اس کی یہ باتیں تو پاگلوں والی باتیں ہیں۔اسی طرح وہ کہا کرتے کہ محمد رسول اللہ کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم اپنی زندگیوں کو بنی نوع انسان کی خدمت میں لگا دو۔اپنے