آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 101
استحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 101 باب دوم مجنون ہونے کا اعتراض آنحضرت ﷺ پر مخالفین نے مجنون ہونے کا اعتراض کیا ہے اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل سورة الحجر آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔- إِنَّكَ لَمَجْنُون: راست بازوں کو آج تک ایسا کہا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ القلم میں ایک بات فرمائی ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے ان کے خلاصے درخلا صے اور علوم کو جمع کرو تو رسول اللہ مجنون ثابت نہ ہوں گے بلکہ اعتقل الناس۔سورۃ القلم میں فرمایا۔وانَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:۴) سات موقع پر انسان کے خلق کا جلوہ ہوتا ہے۔ایک مثلا انسان گھوڑے یا ہاتھی پر جاتا ہے اسے دیکھ کر کئی لوگ حسد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا دادا ایسا تھا یا پڑ دادا ایسا اخلاق فاضلہ ہوں تو یہ فضول کا رروائی نہ کریں۔پس ایک بہشت تو وہ ہوا جب ایسی ایسی جلن نہ لگیں۔دوسرا بہشت بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ای طرح بچوں اور نوکروں کے ساتھ اچھا تعلق بھی ہے تو یہ تیسر ا بہشت اس دنیا کا ہے۔اپنی قوم کے ساتھ معاملات میں عمدہ اخلاق رکھتا ہے تو یہ چوتھا بہشت ہے۔-۵۔پھر قوم کی دو قسمیں ہیں۔اپنے ہم مذہب یا غیر مذ ہب۔ان سے تعلقات محبت والے ہوں تو یہ پانچواں بہشت ہے۔ایک بادشاہ سے تعلقات ہیں۔ایک خدا سے۔حضرت نبی کریم کو فر مایا تو بڑے اعلیٰ خُلق پر ہے۔رسول کریم ﷺ کے خلق اپنی ذات میں بے نظیر تھے۔بیویوں کے ساتھ تعلق اس سے بڑھ کر۔قوم کے ساتھ ایسا صاف معاملہ کہ جب تک خدائی پیغام نہیں پہنچایا۔سب آپ کو صادق و امین سمجھتے تھے۔لا يُكَذِبُونَك وَلَكِنَّ الظَّلِمِينَ بِالتِ اللهِ يَجْحَدُونَ (الانعام :۳۴) با دشاہوں