آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 97
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 97 باب اول + دلیل ہو۔خواہ وہ عذاب ہو یا انعام۔خواہ کوئی ایسا نشان ہو جو ان دونوں قسموں میں سے نہ ہواور صرف ایک علامت کے طور پر ہو۔لیکن جب کفار کے منہ سے یہ لفظ بیان کیا جائے تو اس کے معنے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے ہمیشہ عذاب کے ہوتے ہیں۔پس تأتِينَا آيَةً سے مراد یہ ہے کہ ہم پر ایسا عذاب نازل ہو جو ہمیں تباہ کر دے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہاں تمہارا یہی کام تھا کہ تم اس قسم کے اعتراض کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کے تم جانشین ہو وہ بھی یہی کہتے آئے ہیں کیونکہ جس طرح نبی کا نبی مثیل ہوتا ہے اسی طرح اس نبی کے وقت کے کافر پہلے نبیوں کے کافروں کے مثیل ہوتے ہیں۔پس اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی نشان نہیں دکھایا تو ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ کے دشمنوں کے مثیل تھے۔اور اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو ان کے دشمن کہتے تھے کہ یہ کوئی نشان نہیں لایا تو سچ کہتے تھے کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کے مثیل تھے۔اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی ان کے مخالفوں نے یہی کہا تو ان کا کہنا حق تھا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دشمنوں کے مثیل تھے۔اور اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے نہ مانے والوں نے یہ کہا تو ان کا حق تھا کیونکہ وہ حضرت نوح کے دشمنوں کے مثیل تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے دل مل گئے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ کوئی نشان نہیں لایا حالانکہ ماننے والوں کے لئے بہتیرے نشان ہیں۔ہاں نہ ماننے والوں کے لئے کوئی نہیں۔تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ سے ظاہر ہے کہ انبیاء کی جماعتوں اور ان کے مخالفین کا ایک ہی طریق عمل ہوتا ہے نبیوں کی مشابہت نہیوں سے۔ان کی جماعتوں کی مشابہت پہلی جماعتوں سے اور ان کے مکفرین کی مشابہت پہلے مکفرین سے ہوتی ہے۔جس طرح انبیاء اور ان کی جماعتیں ایک ہی راستہ پر قدم مارتی چلی جاتی ہیں۔اسی طرح ان کے مخالفین بھی اپنے پیشر ہوں کی سنتوں پر عامل ہوتے ہیں۔خصوصاً جن انبیاء کی آپس میں مشابہت اور مماثلت ہو اور ایک ہی قسم کے کام ان کے سپر د ہوں ان کے حالات تو آپس میں بہت ہی ملتے جلتے ہیں۔قَدْ بَيَّنَّا الأيتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ میں بتایا کہ عذاب تو تم صداقت معلوم کرنے کے