آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 96 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 96

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 96 باب اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس سلوک میں دوسرے نبیوں سے مستقلی نہ تھے بلکہ جس قدر آپ کا درجہ بلند تھا اسی قدر آپ سے آپ کے دشمنوں نے زیادہ غیر معقولیت کے ساتھ معاملہ کیا۔جب ان کو کوئی جواب نہ آتا تو قسم قسم کے سوال کرتے جن میں سے دو اس جگہ بیان کئے گئے ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر بچے ہو تو خدا تعالیٰ ہم سے خود کلام کرے اور ہم سے کہے کہ یہ شخص سچا ہے اس کو مان لو۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے کبھی کسی نبی کے زمانہ میں یہ نہیں کیا کہ ملک کے ہر آدمی کو الہام ہوا ہو کہ فلاں شخص سچا ہے اسے مان لو۔یہ تو ہو جاتا ہے کہ بعض اشخاص کو خدا تعالیٰ رویا اور کشوف کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ یہ مامور سچا ہے۔مگر سب لوگوں کو بتانا اس کی سنت کے خلاف ہے اور جن کو بتاتا ہے ان کی شہادت سے لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ان پر بھی الزام لگا دیتے ہیں کہ یہ بھی منصوبوں میں شامل ہیں۔پھر سب کو الہام ہونا اس لئے بھی بے فائدہ ہے کہ ایمان تبھی مفید ہوتا ہے جبکہ وہ انسان کو کوشش سے حاصل ہو۔اگر خدا تعالیٰ کا کلام سب پر نازل ہوتو پھر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض فوت ہو جاتی ہے اور دوسری مخلوق اور انسان میں کچھ فرق نہیں رہتا۔پس فرمایا کہ یہ لوگ سنت اللہ سے واقف نہیں اور نہیں جانتے کہ ایمان کس صورت میں نافع ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کلام کرے حالانکہ ایسا مطالبہ ہے جو پہلے نبیوں سے بھی ہوتا رہا ہے۔جن کو یہ مانتے ہیں لیکن انہوں نے اسے پورا نہیں کیا۔پھر اس نظیر کے موجود ہوتے ہوئے اس رسول سے کیوں ایسا مطالبہ کرتے ہیں۔در حقیقت اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل پہلے انبیاء کے منکرین کے دلوں کے مشابہ ہو گئے ہیں۔دوسرا مطالبہ یہ بیان کیا کہ ہمیں کوئی آیت دکھاؤ اس کا جواب یہ دیا کہ ایسی آیات تو ہم دکھا چکے ہیں جن سے اگر کوئی فائدہ اٹھانے والا انسان ہو تو فائدہ اٹھا سکتا ہے۔لیکن جن لوگوں نے ضد سے کام لینا ہو اور بہٹ پر قائم رہنا ہو ان کا کوئی علاج نہیں۔اس جگہ یہ بات یا درکھنی چاہیئے کہ قرآن کریم میں جہاں تو آیت کا لفظ اللہ تعالی اور اس کے انبیاء اور مومنوں کی طرف سے استعمال کیا گیا ہے وہاں تو اس کے معنے عام ہوتے ہیں یعنی کوئی نشان جو کسی صداقت پر