آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 98
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 98 باب اول لئے مانگتے ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سی آیات ظاہر کر دی ہیں جو اس رسول کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں بشرطیکہ تمہاری نیست ماننے کی ہو اور تم ضد اور تعصب سے کام نہ لو۔پس اگر تمہارا مطالبہ دیانت داری پر مبنی ہے تو تم ان دلائل و براہین پر کیوں غور نہیں کرتے اور صرف عذاب کا مطالبہ ہی کیوں کرتے ہو۔اگر انبیاء کی بعثت کی غرض یہ ہوتی کہ لوگوں کو تباہ کیا جائے تو ادھر نبی آتا اور ادھر خدا تعالیٰ تمام منکروں کو تباہ کر دیتا۔لیکن اگر ایسا ہوتا تو پھر مانتا کون؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انبیاء کی بعثت کے بعد پہلے رحمت کی آیات ظاہر ہوتی ہیں تا کہ جس نے ماننا ہو مان لے اور پھر جو ضدی طبع نہیں مانتے ان پر عذاب آجاتا ہے۔اس آیت میں لقوم يو فنون فرما کر اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف فرمایا ہے کہ نشان تو بہت ظاہر ہو چکے ہیں مگر جو شخص ہر بات میں شبہ پیدا کرے اسے ہدا میت کس طرح مل سکتی ہے۔اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی شکی طبیعت کو چھوڑ وا ور یقین کا مادہ پیدا کرو ورنہ جو لوگ صرف یہی کہنا جانتے ہیں کہ ”اور نشان دکھاؤ“ ان کے لئے کہاں سے نشان آسکتے ہیں۔ہماری زبان میں بھی مشہور ہے کہ سوتے کو سب جگا سکتے ہیں لیکن جاگتے کو کوئی نہیں جگا سکتا۔اسی طرح جو لوگ ہر نشان کا انکار کر دیں ان کے لئے کوئی نشان بھی ہدایت کا موجب نہیں بن سکتا۔یہاں آیات سے قرآن کریم کی آیات مراد نہیں بلکہ ہر قسم کے دلائل اور براہین مراد ہیں جو کسی نبی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔اس آیت نے عیسائیوں کے اس اعتراض کو بھی باطل کر دیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نشان نہیں دکھایا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم یقین رکھنے والی قوم کے لئے ہر قسم کے نشانات کھول کر بیان کر چکے ہیں۔" ( تفسیر کبیر جلد ۲ ص ۱۴۱تا ۱۴۴)