آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 95
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 95 باب اول تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم گندے نہیں اس لئے ہم پر بھی کلام نازل ہونا چاہئے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہم پر کیا فضیلت حاصل ہے کہ صرف اس پر کلام نازل ہوتا ہے۔کتیک قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم - الله تعالی فرماتا ہے کہ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے گزرے ہیں کہا تھا اور بالکل ان کی بات کے مشابہ کہا تھا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کے مقابلہ میں ایک ہی قسم کے اعتراض ہوتے چلے آئے ہیں۔۔۔۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر ان کا اعتراض صحیح ہے تو پھر تمام انبیا ء کی نبوتیں باطل ٹھہرتی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب دعوی کیا تھا کہ ان کو الہام ہوتا ہے تو اس وقت اوروں کو الہام نہیں ہوا بلکہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو ہوا۔پھر باقی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یکدم تباہ بھی نہیں کیا۔ہاں حجت کے بعد وہ ہلاک ہوئے اور وہ بھی آہستہ آہستہ۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو جب الہام ہوا تو ان کے زمانہ میں بھی باقی لوگوں کو الہام نہیں ہوا اور پھر باقی لوگوں کو یکدم تباہ بھی نہیں کیا گیا۔پس اگر یہ دلیل صحیح ہے کہ یا تو اللہ تعالی ہم پر الہام نازل کرے اور اگر ہم الہام کے مستحق نہیں تو ہمیں تباہ کر دے۔تو اس دلیل کو پہلوں پر چسپاں کر کے دیکھ لو کہ کیا یہ میچ قرار پاتی ہے یا غلط؟ اور اگر تمہاری یہ دلیل پہلوں پر چسپاں نہیں ہوتی تو معلوم ہوا کہ تمہارا یہ مطالبہ منہاج نبوت کے خلاف ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جواب بن نہ آئے تو وہ آگے سے ایسا عذر تلاش کرتا ہے جس پر بحث ختم ہو کر اس کا پیچھا چھوٹے۔سچے نبیوں کے مقابلہ میں ہمیشہ سے یہ طریق اختیار کیا جاتا رہا ہے۔جب ان کے مخالفوں کو ان سے بحث کرنے میں ندامت ہوئی ہے تو فوراً انہوں نے ایسے مطالبات پیش کر دیئے ہیں کہ جن کی نسبت ان کو یقین تھا کہ ایک یا دوسری وجہ سے ان کا پورا ہونا نا ممکن ہے۔کبھی تو سنت اللہ کے خلاف کسی بات کا مطالبہ کر دیتے ،کبھی کسی دیر میں ہونے والی بات کو فورا پورا کرنے کا مطالبہ کرتے۔کبھی ایسے امر کا مطالبہ کرتے جو خلاف شان الہی ہوتا اور پھر علاوہ اس قسم کے مطالبات کے یہ جواب بھی دیا کرتے کہ اچھا ہم لوگ جھوٹے ہیں تو عذاب الہی کیوں نہیں آتا۔ہم پر عذاب الہی نازل ہوتب ہم مانیں گے ورنہ نہیں۔