آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 94 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 94

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 94 باب اول ساری عمر شرک کا رڈ کرتے رہے۔ان سے شیطان کا کیا تعلق ہو سکتا ہے۔“ انوارالعلوم جلد ۲ صفحه ۴۴۹ تا ۴۵۳) کفار کا اعتراض کہ اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا صرف آپ سے کیوں؟ سورۃ البقرہ کی آیت ۱۱۹ کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: وہ بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالی بغیر کسی حکمت کے یونہی ایک شخص کو نبی بنا کر بھیج دیتا ہے اور وہ انتخاب میں کسی اہلیت کو مد نظر نہیں رکھتا۔اور پھر اس غلط خیال کے نتیجے میں یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں براہ راست کیوں حکم نہیں دے دیتا کہ ایسا کرو۔اور ایسا نہ کرونا کہ کوئی جھگڑا ہی پیدا نہ ہو۔آخر اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے کہ وہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا۔اور اگر ہم اس بات کے مستحق نہیں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ باتیں کرے تو کم از کم یہ تو ہونا چاہئے تھا کہ کوئی دلیل ہی مہیا کر دی جاتی جس کی وجہ سے ہم اسے مجبوراً مان لیتے۔میری تحقیق یہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی کفار کے آیت طلب کرنے کا ذکر آنا ہے وہاں اس سے مراد ہمیشہ عذاب ہی ہوتا ہے۔بشرطیکہ اس کے خلاف وہاں کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔چنانچہ وہ تمام مقامات جہاں کفار کی طرف سے آیت کا مطالبہ کیا گیا ہے ان پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہر جگہ آیت سے مراد عذاب ہی ہوتا ہے۔اس جگہ بھی یہی مراد ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہم پر نازل ہوتا اور ہم اسے مان لیتے کیونکہ اگر یہ اس کا بندہ ہے تو ہم بھی اسی کے بندے ہیں۔پھر اس میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔اور اگر یہ کہو کہ تم اس کے بندے تو ہو مگر تم عذاب کے مستحق ہو تو ایسی صورت میں ہم پر عذاب نازل ہونا چاہئے۔کو یا دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہونی چاہئے۔اگر ہم اس کے بندے ہیں تو ہم پر بھی کلام نازل ہونا چاہئے اور اگر کہو کہ تم گندے ہو گئے ہو تو پھر ہمیں بلاک کر دینا چاہئے۔لیکن اگر وہ ہمیں ہلاک بھی نہیں کرتا