آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 93
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 4 98 باب اول وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيطِيْنُ وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ (الشعراء: ۲۱۲۲۱۱) یعنی اس میں شیطانی کلام کا اس قدر رد ہے کہ اسے شیطان اتا ر ہی کس طرح سکتا ہے۔پھر اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا چاہیں تو ملا ہی نہیں سکتے۔کہیں کوئی عبارت کھپ ہی نہیں سکتی۔جو کچھ ملائیں گے بے جوڑ ہوگا۔جیسا کہ یہاں ہوا ہے۔پھر آگے چل کر فرماتا ہے: هل أنيتُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيطِين تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاتِ أَيْن يُلْقُونَ وأكثرُهُمْ كُذِبُونَ (الشعراء:۲۲۲۲ ۲۲۴) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس طرح اترتے ہیں۔شیطان کا تعلق ہر آفاق اور اٹیم کے ساتھ ہوتا ہے۔یعنی جو بڑا جھوٹ بولنے والا اور گناہگار ہو اس سے شیطان کا تعلق ہوتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو تم خود کہتے ہو کہ اس سے بڑھ کر سچا اور کوئی نہیں۔اس کے امین ہونے کے بھی تم قائل ہو پھر اس پر شیطان کا تصرف کس طرح ہو سکتا ہے۔پھر فرماتا ہے: إلى أوليهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ (الانعام (۱۲۲) کہ شیطان تو اپنی وحی شیطانوں کی طرف کرتا ہے تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔مومنوں کی طرف نہیں کرتا۔اب دیکھو وہ روایتیں جو بیان کی جاتی ہیں رسول کریم ﷺ پر کیسا خطرناک الزام لگاتی ہیں۔شیطان تو اپنے دوست کو ہی کہے گا کہ یہ ہتھیار لے جا اور لڑ کسی مسلمان کو وہ اپنے خلاف کس طرح بتائے گا۔اسی طرح سور پھل رکوع ۱۳ میں آتا ہے:۔إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سَلْطَنُّ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ إِنَّمَا سُلطتُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ (النحل: ۱۰۰، ۱۰۱) یعنی شیطان کا مومنوں پر کوئی تسلط نہیں ہو سکتا جو خدا پر توکل رکھتے ہیں۔شیطان کی حکومت الله تو انہی پر ہوتی ہے جو اس کے دوست ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔محمد ملے تو