آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 92
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 92 باب اول جس قدر ہنسی کرنی تھی کرلی ہے اب باقی عورتیں بھی گبڑی ہو جائیں تا کہ میں بھی ان پر ہنسوں۔اس روایت کو درست قرار دینے والوں کے نزدیک رسول کریم ﷺ کی کس طرح تسلی ہوئی۔اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو کہہ دیا کہ تم پر ہی شیطان کا قبضہ نہیں ہوا سب نبیوں پر ہوتا چلا آیا ہے۔یہ سن کر رسول کریم ﷺ کا فکر دور ہو گیا۔کتنی نا معقول بات ہے ان لوگوں نے کبھی اتنا بھی نہ سوچا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والله عليم حكيم اللہ تعالیٰ جانے والا اور حکمت والا ہے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ شیطان کا ہر نبی اور رسول پر قبضہ پالیتا بڑی حکمت کی بات ہے اور پھر علیم کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔میں بیان کر رہا تھا کہ ایک بزرگ کے قول سے مجھے بڑا مزا آتا ہے۔ان کا نام قاضی عیاض ہے۔وہ اس قسم کی روایتیں نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان سے یہ تو پتہ لگ گیا کہ شیطان کا تصرف ہوا مگر رسول کریم نے پر نہیں بلکہ ان روایتوں کو نقل کرنے والوں کی قلموں پر ہوا ہے۔یہ بہت ہی لطیف بات ہے۔قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے وہ اس جگہ موجود ہے جہاں کہتے ہیں کہ شیطان نے آیتیں نازل کیں یعنی تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجی کے بعد کہتے ہیں کہ یہ آیات اتریں :- انكُمُ الذَّكَرَ وَلَهُ الأنثى تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيَرَى إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءِ سميتُمُوهَا انْتُمْ وَأَبَاؤُكُمْ ما انزل الله بها من سلطن (النجم : ۲۲ تا ۲۴) فرمایا کیا تم اپنے لئے تو بیٹے قرار دیتے ہو اور خدا کے لئے لات ، منات اور عزر کی بیٹیاں۔یہ کس قدر بھونڈی تقسیم ہے جو تم نے کی۔یہ نام تم نے اپنے طور پر رکھ لئے ہیں۔خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئے۔خدا نے تو ان بتوں کے لئے اتارا ہی کچھ نہیں۔کیا ان آیات کے بعد کوئی شخص ان فقروں کو درمیان میں شامل سمجھ سکتا ہے۔پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل نہیں ہو سکتے۔آخر کار عربی تو جانتے تھے۔اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیتیں بھی اس حصہ کو رڈ کر رہی ہیں۔فرمایا: