آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 91 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 91

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 91 باب اول انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے اور بتوں کو مان لیا ہے۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔کو تاریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ محض جھوٹ ہے۔مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے اور کیا واقعہ میں رسول کریم ﷺ سے ایسا ہوا؟ اس موقع پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے۔میں تو جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں۔وہ فرماتے ہیں شیطان نے رسول کریم ﷺ پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوا دی ہے۔گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محدثین پر کرایا جائے۔رسول کریم ﷺ کو درمیان میں کیوں لایا جائے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سورۃ جھم پڑھتے ہوئے یہ آیتیں بھی پڑھ الله الله دیں۔اس پر جبریل نازل ہوا اور اس نے کہا آپ نے یہ کیا کیا۔میں تو یہ آیتیں نہیں لایا تھا۔یہ تو شیطان نے جاری کی ہیں۔یہ معلوم کر کے رسول کریم ﷺ کو سخت فکر ہوا۔خدا تعالیٰ نے اس فکر کو : یہ کہہ کر دور کر دیا کہ: و ما أَرْسَكَ مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَى القَى الشَّيْطانُ في المنيه فيني اللهُ مَا يُلقى القطن ثم يحكم الله أنتم والله عَلِيمٌ حَكِيم (الج:۵۳) فرمایا تم سے پہلے بھی کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا گیا کہ جب اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی ہو تو شیطان نے اس میں دخل نہ دے دیا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی بات کو مٹا دیتا ہے اور جو اس کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اسے قائم رکھتا ہے۔کہتے ہیں جب یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل کی تو رسول کریم ﷺ کی تسلی ہو گئی تسلی کس طرح ہوئی اسی طرح جس طرح اس بڑھیا عورت کی ہو گئی تھی جس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تمہارا کبڑا پن دور ہو جائے یا یہ کہ دوسری عورتیں بھی تمہاری طرح گیوی ہو جائیں۔اس نے کہا مجھ پر تو دوسری عورتوں نے الله