آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 90
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 90 باب اول ہے اور اسی نے آپ پر یہ کلام نازل فرمایا ہے۔“ (تفسیر کبیر جلد اس ۲۷۲ تا ۲۷۷) ☆ اس اعتراض کے رد میں حضرت مصلح موجود ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: اعتراض یہ تھا کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس کی طرف سے اسے کلام حاصل ہوتا ہے اور کو کفار کا کوئی قول اس اعتراض کے متعلق نقل نہیں کیا گیا مگر اس اعتراض کے اشارے ضرور پائے جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا تَتَزَلَتْ بِهِ الخيطين (الشعراء: (۲۱) شیطان اس کلام کو لے کر نہیں اترے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطنٍ رَّحِيْم ( الگوی : ۲۶) یہ شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا یہ بھی اعتراض تھا کہ اس پر شیطان اترنا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اعتراض کو اور پکا کر دیا ہے اور کفار کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار جمع ہو کر رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے پاس اونی درجہ کے لوگ آتے ہیں اور بڑے لوگ آپ کی باتیں نہیں سنتے۔اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ آپ کے پاس آکر بیٹھا کریں۔اس طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔اس پر رسول کریم ﷺ کو خیال آیا کہ اگر ایسا کر دیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ مان لیں گے۔مجھے کیا ہی لطف آیا اس شخص کے اس فقرہ سے جس کا نام ٹولڈ کے ہے۔وہ لکھتا ہے " معلوم ہوتا ہے یہ روایت بنانے والے محمد ( ﷺ ) کو اپنے جیسا ہی بیوقوف سمجھتے تھے۔غرض رسول کریم ﷺ کو نعوذباللہ دین میں نرمی کرنے کا خیال آیا۔اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے اور سورۃ نجم پڑھنی شروع کی۔اس وقت شیطان نے آفر يَتُمُ الله وَالْعُزَّى وَمَنوةَ الثَّالِثَة الأخرى (النجم ۲۰۲۰) کے بعد یہ کلمات آپ کی زبان پر جاری کردئے کہ وَ تِلْكَ الْفَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنْ شَفَاعَتَهُنَّ لَمُرْتَجی کیا تم نے لات اور عزمی اور منات کی حقیقت نہیں دیکھی۔یہ بہت خوبصورت دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی بڑی امید ہے۔چونکہ سورۃ نجم کے آخر میں سجدہ آتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے سجدہ کیا تو سب کفار نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کر دیا کیونکہ