آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 89 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 89

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات باب اول شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔پھر ان کی بادشاہی کس طرح قائم رہے گی۔" (متی باب ۱۲ تا ۲۶) قرآن کریم بھی یہی دلیل مخالفوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور انہیں توجہ دلاتا ہے کہ اگر تمہارا یہ اعتراض صحیح ہو کہ شیطان نے یہ کلام نازل کیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ شیطان نے اپنا بیڑا آپ غرق کر لیا۔کیونکہ اس کتاب کے لفظ لفظ میں شیطان کو دھتکارا گیا ہے اور اس کی ایک ایک تعلیم میں اس پر پھٹکا رڈالی گئی ہے۔اب یہ کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ شیطان نے خود اپنے خلاف اتنابڑ ا مواد فراہم کر دیا۔یہ تو عقل کے بالکل خلاف ہے۔ای طرح وَمَا يَسْتَطِيعُونَ میں جو دلیل استعمال کی گئی ہے کہ اس قرآن میں تو غیب کی خبریں ہیں اور غیب کی خبریں بیان کرنا شیطان کے اقتدار سے باہر ہے۔اسے بھی انجیل میں استعمال کیا گیا ہے اور حضرت مسیح نے واضح کیا ہے کہ علم غیب صرف خدا تعالیٰ کو حاصل ہے اور شیاطین تو الگ رہے فرشتے بھی اس کے رازوں سے آگاہ نہیں چنانچہ ایک دفعہ حضرت مسیح نے جب اپنی آمد ثانی کی علامات بتا ئیں تو اس کے ساتھ ہی آپ نے اس امر کی بھی وضاحت فرما دی کہ کو میری یہ باتیں کبھی نہیں ملیں گی۔لیکن اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا ، مگر صرف باپ جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن آدم کے آنے کے وقت ہوگا۔کیونکہ جس طرح طوفان کے پہلے سے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آکر ان سب کو بہانہ لے گیا ان کو خبر نہ ہوئی اسی طرح ابن آدم کا آنا ہوگا۔" (لوقا باب ۲۴ آیت ۳۶ تا ۴۰ ) غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور بے عیب زندگی اور آپ کی تعلیم کا پاک اور مطہر ہونا اور پھر قرآن کریم میں آسمانی علوم اور غیب کی خبروں کا بکثرت اظہار اور شیاطین کا آسمانی علوم کے بیان کرنے کی طاقت ہی نہ رکھنا بتا رہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ آپ کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس نے آپ پر یہ کلام نازل کر دیا ہے سراسر غلط اعتراض ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان سے نہیں خدا سے تعلق