آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 88
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 88 باب اول کے بیان کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے کیونکہ انھم عن الشنع لمَعْرُ ولون خدا تعالى السَّمْعِ لَمَعْزُولُوْنَ نے انہیں آسمان کی باتیں سننے سے محروم کیا ہوا ہے گویا آسمان پر جا کر باتیں سننا تو الگ رہا وہاں تک کسی کے جانے کی طاقت بھی قرآن کریم نے تسلیم نہیں کی مگر عجیب بات یہ ہے کہ بعض رکھتے ہیں کہ شیطان آسمان پر جاتا ہے اور وہ ملاء اعلیٰ اور جبریل اور مسلمان به عقیده عرش کی باتوں کو سن کر زمین پر آجاتا ہے اور پھر وہ اپنے چیلے چانٹوں کو وہ خبر میں بتا نا پھرتا ہے۔حالانکہ خدا تعالی یہ فرماتا ہے کہ شیطان آسمانی کلام سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔خدا تو خدا ہے۔اس دنیا کی معمولی معمولی بادشاہوں کے پاس بھٹکنے کی بھی لوگوں میں طاقت نہیں ہوتی اور وہ ان کے قریب جانے سے لرزتے اور گھبراتے ہیں۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ زمین و آسمان کے خدا کے راز شیطان اچک کر لے آئے۔اور وہ انہیں بگاڑ کر دنیا میں پھیلا نا شروع کر دے۔غرض قرآن کریم کفار کے اس الزام کی تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ شیاطین نے اس کلام کو نازل نہیں کیا اور یہ کام نہ ان کے مناسب حال تھا اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے تھے۔یعنی قرآن کریم میں تو وہ وہ صیحتیں ہیں جو شیطانی تعلیموں کے بالکل خلاف ہیں۔پھر یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ شیطان نے خود اپنے خلاف محمد رسول اللہ پر تعلیم نا زل کر دی۔یہ دلیل حضرت مسیح نے بھی انجیل میں استعمال کی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ: پھر وہ ایک کونگی بد روح کو نکال رہا تھا۔اور جن وہ بد روح نکل گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا اور لوگوں نے تعجب کیا لیکن ان میں سے بعض نے کہا۔یہ تو بد روحوں کے سردار بعملر بول کی مدد ہارا سے بد روحوں کو نکالتا ہے۔بعض اور لوگ آزمائش کے لئے اس سے آسمانی نشان طلب کرنے لگے۔مگر اس نے ان کے خیالات کو جان کر ان سے کہا جس سلطنت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ یہ باد ہو جاتا ہے اور اگر شیطان بھی اپنا مخالف ہو جائے تو اس کی سلطنت کس طرح قائم رہے گی کیونکہ تم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدروحوں کو بلعر بول کی مددسے نکالتا ہے۔" (لوقا باب ۱۱ آیت ۱۴ تا ۱۸) اسی طرح متی میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے ان سے کہا۔مگر شیطان ہی نے