آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 87 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 87

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 87 باب اول کر لیا جائے۔یہ تو قاضی عیاض کا جواب ہے۔قرآنی جواب یہ ہے کہ تِلْكَ الغَرانيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجی کا فقرہ جہاں جہاں بیان کیا جا تا ہے۔اس کے معأبعد یہ آیت آتی ہے کہ الكُمُ الذِّكْرَ وَنَهُ الْأُنثى تلك إِذَا قِسَمَةٌ ضِيرى تِلْكَ ان من إلا بِهَا أو سَمْتُمُوهَا أنْتُمْ وَابَ وكُم مَّا اَنْزَلَ الله من سلطن (النجم : ۲۲ (۲۴) یعنی کیا تمہیں تو اپنے لئے بیٹے پسند اور خدا تعالیٰ کے لئے تم لڑکیاں تجویز کر رہے ہو۔یہ تقسیم تو نہایت ہی ناقص اور ظالمانہ تقسیم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ نے ان بتوں کی تائید کے لئے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔اب بتاؤ کہ کیا اس فرضی کلام کے بعد جو محمد رسول اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی شخص ان آیتوں کا منکر یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عقائد میں نرمی اختیار کرلی ہے اور اس پر کوئی بے وقوف سے بے وقوف مشرک بھی سجدہ کر سکتا تھا۔پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل ہی نہیں ہو سکتے تھے جو بتوں کی تعریف میں بیان کئے جاتے ہیں۔آخر کفار عر بی تو جانتے تھے کیا وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس سورۃ کے تو لفظ لفظ میں شرک کی مذمت کی گئی ہے پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے دینی عقائد میں نرمی اختیار کر لی ہے۔یہی مضمون زیر تفسیر آیات میں بیان کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا یہ الزام کہ اس شخص پر شیطان کلام نازل کرتا ہے درست نہیں کیونکہ (الف ) اس شخص کا اپنا چال چلن ایسا اعلیٰ اور پاکیزہ ہے کہ ایسے آدمیوں کا شیطان سے کوئی تعلق ہو ہی پا نہیں سکتا۔(ب) پھر جو تعلیم اس پر نازل ہوئی ہے وہ ایسی مطہر اور پاک ہے کہ نا پاک شیطان اس تعلیم کو ا نا رہی نہیں سکتا۔آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ شیطان کے خلاف تعلیم ہے۔تو یہ کلام اس کی طرف سے کیسے نازل ہو سکتا ہے۔( ج ) اس کتاب میں آسمانی علوم ہیں اور اس میں شیطانی کلام کا اس قدر رد ہے کہ اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا بھی چاہیں تو نہیں ملا سکتے کیونکہ کہیں کوئی عبارت چھپ ہی نہیں سکتی اور پھر وہ آسمانی علوم