آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 86
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 86 باب اول مقامات میں اشارات ضرور پائے جاتے ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ سورہ تکویر میں فرماتا ہے۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطن رجيم (الدر (۲۶) یعنی اس رسول ﷺ پر نازل ہونے (التکویر : والا کلام کسی دھتکارے ہوئے شیطان کا قول نہیں۔اسی طرح زیرتفسیر آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا تَلَزَّلَتْ بِهِ الشَّيطين شیطانوں نے اس کلام کو نہیں اُتارا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اس پر شیطان نازل ہوتا ہے افسوس ہے کہ بعض مسلمان مفسرین نے اس قول کو اور بھی پکا کر دیا اور کفار کے ہاتھوں میں انہوں نے ایک خطرناک ہتھیار دے دیا اور وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار رسول کریم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کے ماننے والے تو ادنی لوگ ہیں۔اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ بھی آپ کے پاس آکر بیٹھا کریں۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے۔جب آپ نے یہ آیت پڑھی کہ آفَرَءَ يَتُمُ اللَّتَ وَالْعُزَّى وَمَنْوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخرى کہ تم بھی ذرا لات اور عربی کا حال سناؤ اور تیسرے مناہ کا بھی جو ان کے علاوہ ہے۔تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیئے کہ تِلْكَ الغَرَانِيقُ العُلى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لمُرتجى۔یعنی یہ لمبی گردنیں رکھنے والے بہت بڑی اعلیٰ شان کے مالک ہیں اور ان کی شفاعت کی یقینی طور پر امید کی جاسکتی ہے۔کفار نے یہ بات سنی تو وہ بڑے خوش ہوئے۔چنانچہ جب آپ نے سورۃ ختم کی اور سجدہ کیا تو سب کفار نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کر دیا۔کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کی گیا ہے کہ ابن حجر " جیسے آدمی بھی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔میں اس وقت اس کی تاویل میں نہیں پڑتا کیونکہ اس پر تفصیلی بحث سورۃ حج میں گزرچکی ہے۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کیا واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہوا۔مجھے قاضی عیاض کا یہ قول بے انتہا پسند ہے کہ بعض محمد ثین کی قلم سے شیطان نے یہ حدیث لکھوا دی ہے کو یا اگر شیطان کا تسلط تسلیم ہی کرنا ہے تو کیوں نہ اس کا تسلط محد ثین پر تسلیم۔