آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 85
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات باب اول بدطینت پادری نے یہ افترا اسی انجیلی قصہ کے تصور سے تراش لیا تھا اگر ایسا خیال حضرت عیسی کی نسبت اس کو پیدا ہوتا تو کچھ بے جانہ تھا۔کیونکہ حضرت عیسی کی نسبت ایسا بے ہودہ قصہ انجیلوں میں موجود ہے۔جس کا کوئی ثبوت اب تک کسی عیسائی نے نہیں دیا اور نہ وہ کبوتر محفوظ رکھا۔اور پادری صاحبوں کی جعل سازیاں صرف اسی پر بس نہیں بلکہ یہ وہی حضرات ہیں جنہوں نے کئی جعلی انجیلیں بنا ڈالیں اور خدا تعالیٰ پر بھی افترا کرنے سے نہ ڈرے۔ابھی حال میں ایک نئی انجیل کسی بزرگ عیسائی نے تبت کے ملک سے برآمد کی ہے جس کی بہت جوش سے خریداری ہو رہی ہے اور ان میں سے ایک بڑے مقدس کا یہ قول ہے کہ دین کی ترقی اور حمایت کے لئے جھوٹ بولنا نہ صرف جائز بلکہ ذریعہ نجات ہے اس قوم کا جھوٹ سے پیار کرنا اپریل فول کی رسم سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر اپریل کی تحریروں اور اخباروں میں خلاف واقعہ باتیں اور خلاف قیاس امور شائع کئے جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔اس سے یقین ہوتا ہے کہ غالباً بہت سا حصہ انجیل کا اپریل میں ہی لکھا گیا ہے اور یقیناً تثلیث کے مسئلہ کی جڑ بھی یہی مہینہ ہے جس میں بے دھڑک جھوٹ بولا جاتا ہے اور خلاف قیاس با تیں شائع کی جاتی ہیں۔غرض ان لوگوں کے نز د یک کسی ضرورت کے وقت جھوٹ کا استعمال کرنا کچھ کراہت کی بات نہیں، جب دیکھتے ہیں کہ کوئی پردہ دری ہونے لگی ہے تو فی الفور جھوٹ سے کام لیتے ہیں“۔ضیا الحق ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۹۹،۲۹۸) شیطانی وحی کا الزام سورۃ الشعراء آیت ۲۱۱ تا ۲۱۴ کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود آنحضرت پر شیطانی وحی کے اعتراض کی تردید کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے ایک اعتراض کی تردید فرمائی ہے ان کا اعتراض یہ تھا کہ اس شخص کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس کی طرف سے اس پر کلام نازل ہوتا ہے۔چنانچہ کو قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کی طرف قرآن کریم کے مختلف