700 احکام خداوندی — Page 9
(9) مکرم فرقان احمد (11) مکرم مرزا تو قیر یاسین G-10 G-11 (13) مکرم عمران نعیم ہمک 0 (10) مکرم معین احمد ہمک (12) مکرم بلال احمد G-10 گو یہ تاریخی کام ہے مگر تھا خاصا مشکل۔دوست احباب کے مشوروں اور تعاون سے تکمیل کو پہنچا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ چونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایک حکم کی کیا نوعیت ہے اس کو سمجھنا ایک عام انسان کے حد بست سے باہر ہے۔بعض اوقات ایک ہی حکم کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اور ترجمہ کرنے والوں نے ایک ہی ترجمہ کیا ہے۔لیکن یہ بات سوچنے سے تعلق رکھتی ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ ایک ہی حکم کے لئے دو قسم کے الفاظ استعمال کرے۔جیسے لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ اور لَا تَايْنَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ - ii !!!~ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ اور وَلَا تَعْتَوُ فِي الْأَرْضِ تِلْكَ حُدُودَ اللَّهِ فَلَا تَتُرَبُوهَا اور تِلكَ حُدُودَ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا اس لئے میرے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل رہا کہ میں اس کو ایک حکم گردانوں یا دو الگ الگ حکم۔اس لئے بعد مشورہ یہ فیصلہ ہوا کہ ایک ہی حکم گنا جائے مگر دوسرے کو ذیل میں یا فرع میں بیان کر دیا جائے اور یوں احکامات کی تعداد بھی اُس تعداد کے قریب رہے گی جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف کشتی نوح میں بیان فرمائی اور جس کو بنیاد بنا کر اس کام کا آغاز کیا گیا تھا یعنی 700 احکامات۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات اسلام میں احکامات کی تعداد 600 سے کچھ زیادہ بیان فرمائی ہے اور ازالہ اوہام میں یہ تعداد 500 درج فرمائی ہے اس تعداد میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی ایک جگہ اس اختلاف کا کافی و شافی جواب دے کر وضاحت فرما دی ہے۔آپ بیان فرماتے ہیں قرآن شریف میں اوامر و نواہی اور احکام الہی کی کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان ہوئی ہیں۔لمفوظات جلد 4 صفحہ 655) یعنی مختلف قسم کے احکام کی کئی سو شاخیں ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مختلف قسم کے احکام کئی سو