700 احکام خداوندی — Page 10
10 شاخوں میں بیان ہوئے ہیں جو لاتعداد ہیں۔آپ ) قرآن کریم تو ایک سمندر ہے جس کی تہہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہا گوہر پوشیدہ ہیں جن کے حصول کے لئے غوطہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق حصہ پاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ایک ہی آیت سے سید نا حضرت مصلح موعود (الہ سے رانی ہو نے اورحکم مرادلیا ہے۔اور سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع " نے اسی آیت سے اور استنباط فرمایا ہے۔اس لئے احکام کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔برادرم مکرم نسیم احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ UK گزشتہ سال اسلام آباد پاکستان تشریف لائے تو خاکسار نے اُن سے جب 700 احکام اکٹھا کرنے کے project کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ احکام کی تعداد میں اختلاف پر حضرت خلیفہ اسج الرابع رحمہ اللہ تعالٰی نے بھی ایک محفل میں ذکر فرمایا تھا۔مکرم مربی صاحب موصوف نے واپس جا کر بذریعہ ٹیکس یہ وضاحت بھجوائی کہ خاکسار نے خود حضور کا ارشاد سُنا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن شریف میں احکامات کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں 700 اور کہیں 500 کی تعداد لکھی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک حکم کے اندر کئی کئی حکم ہوتے ہیں۔اسے ایک پہلو سے دیکھیں تو ایک حکم ہوتا ہے اور دوسرے پہلو سے دیکھیں تو ایک سے زیادہ ،، احکام ہوتے ہیں۔“ اور یہ بھی ممکن ہے 700 سے مراد واضح اور اصل احکام مراد ہوں اس سے متعلقہ فروعات مراد نہ ہوں یا استنباط مراد نہ ہوں۔صفات محمودہ اور صفات مذمومہ مراد نہ ہوں کیونکہ یہ بھی اوامر کے حکم میں آتی ہیں۔مومنوں کی نیک صفات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا مؤمن کا خاصہ ہے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک 700 سے مراد کثرت سے احکام ہوں چونکہ 700,70,7 کا ہندسہ عربی اور دیگر زبانوں میں بھی کثرت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اور مراد اس سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ ہو کہ اُن تمام احکام پر جو کثرت کے ساتھ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں عمل پیرا ہونا ضروری ہے اور جو بھی ان کثرت سے بیان شدہ احکام میں سے ایک حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کر لیتا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ