700 احکام خداوندی — Page 68
68 36 63 عسر وئیر ہر دو میں اللہ کو یاد کرنا لله (الزمر: 9) وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرِّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةٌ مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ قُلْ تَمَتَّعُ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَبِ النَّارِ اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف جھکتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب وہ اُسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس بات کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ پہلے دعا کیا کرتا تھا اور وہ اللہ کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے تا کہ اس کی راہ سے گمراہ کر دے۔تو کہہ دے کہ اپنے کفر سے کچھ تھوڑ اسا عارضی فائدہ اُٹھا لے یقینا تو اہل نار میں سے ہے۔وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَا نَا لِجَنْبَة أَوْ قَائِدًا أَوْ قَائِمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا br عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرَمَّسَّهُ كَذلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا (یونس : ۱۳) يَعْمَلُونَ ) اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچے تو اپنے پہلو کے بل لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہمیں پکارتا ہے۔مگر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ یوں گزر جاتا ہے۔جیسے اس نے کبھی ہمیں اس دُکھ کی طرف بلایا ہی نہ ہو جو اسے پہنچا ہو۔اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کو خوبصورت بنا کر دکھایا جاتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔وَإِذَا أَنْعَمُنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ ۚ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُ وَ ( حم السجدة: ۵۲) دُعَاءٍ عَرِيضٍ اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے۔اور کنارہ کشی کرتے ہوئے دُور ہٹ جاتا ہے اور جب اُسے شر پہنچے تو لمبی چوڑی دعا کرنے والا ہو جاتا ہے۔ہو فَامَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَهُ رَبُّهُ فَا كَرَمَهُ وَنَعْمَهُ * فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ 6 وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ : فَيَقُولُ رَبِّي أَهَا نَنِ • (الفجر: ١٧٠١٦) پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کی آزمائش کرتا ہے پھر اسے عزت دیتا ہے اور اسے