700 احکام خداوندی — Page 539
539 1 گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور بد کار اور سخت ناشکرے کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے۔حضرت نوح علیہ السلام نے منکرین و مکذبین کے خلاف الہی فیصلہ طلب کر کے اپنے والدین اور مومنوں کے حق میں بخشش کی دُعایوں کی : (نوح : ٢٩) رَبِّ اغْفِرْلِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَلَا تَزِدِ الظَّلِمِينَ إِلَّا تَبَارًا Ó اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور اُسے بھی جو بحیثیت مومن میرے گھر۔میں داخل ہوا اور سب مومن مردوں اور سب مومن عورتوں کو۔اور تو ظالموں کو ہلاکت کے سواکسی چیز میں نہ بڑھانا۔حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت کشتی پر سوار ہوتے یہ دُعا الہی حکم سے پڑھی۔یہ دُعا کسی سواری پر سوار ہوتے پڑھنی چاہئے: بِسْمِ اللهِ مَجْرَهَا وَمُرْسَهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمُ O (شود: ۴۲) اللہ کے نام کے ساتھ ہی اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا ہے۔یقینا میرا رب بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔۔حضرت نوح علیہ السلام کوکشتی پر سوار ہوتے وقت الْحَمدُ لِلَّهِ الَّذِى نَحْنَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ كه کر یہ دعا پڑھنے کی بھی ہدایت قرآن میں ملتی ہے: رَبِّ أَنْزِلَنِي سُنَزَلًا مُّبَرَكًا وَأَنتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ O (المؤمنون : ٣٠) اے میرے رب ! تو مجھے ایک مبارک اترنے کی جگہ پر اُتار اور تو اُتارنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔حضرت نوح علیہ اسلام کی اس دُعا کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی نے انہیں کشتی کے ذریعہ طوفان سے نجات دی: رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُون O اے میرے رب ! میر کی مددکر کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔(المؤمنون : ۲۷)