700 احکام خداوندی

Page 531 of 615

700 احکام خداوندی — Page 531

531 حمد وإن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَلَة أَوِ امْرَأَةٌ وَلَةٌ أَخَ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثَّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوْصَى بِهَا أَوْدَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٌ وَصِيَّةٌ مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ٥ اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ورثت تقسیم کیا جارہا ہو جو کلالہ ہو یعنی نہ اس کے ماں باپ ہوں نہ اولاد) لیکن اس کا بھائی یا بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہوگا۔اور اگر و : ( یعنی بہن بھائی ) اس سے زیادہ ہوں تو پھر وہ سب تیسرے حصے میں شریک ہوں گے۔وصیت کی ادائیگی کے بعد جو کی گئی ہو یا قرض چکانے کے بعد۔بغیر اس کے کہ کوئی تکلیف میں مبتلا کیا جائے۔وصیت ہے اللہ کی طرف سے۔اور اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور ) بڑا بردبار ہے۔(نوٹ: اس آیت میں کا الہ کی کچھ اور صورتیں بھی بیان ہوئی ہیں جو او پر والے حکم سے مختلف ہیں ) اگر کسی مرد عورت کے نہ ہی ماں باپ ہوں اور نہ ہی اولاد اور اس کا کوئی بھائی یا بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے۔(1) 1278 (2) 1279 اگر وہ (بہن بھائی ) زیادہ ہوں تو وہ سب تیسرے حصہ میں شریک ہوں گے۔یہ تقسیم دعیت اور مرنے والے کے قرض کی ادائیگی کے بعد ہوگی اور اس تقسیم میں کسی کو ضرر پہنچانا مقصود نہیں ہونا چاہئے۔(ضروری نوٹ: سورۃ النساء کی آیت ۱۷۷ اور آیت ۱۳ میں کلالہ کی جو صورتیں بیان ہوئی ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے اس کا حل ہوں فرمایا ہے) سورۃ النساء کی آیت ۱۳ میں یہ ذکر تھا کہ اگر کلالہ مرجائے اس کے بہن بھائی ماں کی طرف سے ہوں تو اُن کو 1/6 یا 1/3 ملے گا۔لیکن اس جگہ اُس کلالہ کا ذکر ہے جس کے بہن بھائی ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ہوں یا صرف باپ کی طرف سے۔( تفسیر صغیر صفحه ۱۳۹ حاشیه )