700 احکام خداوندی — Page 450
450 591 1058 کن کے خلاف قتال کی اجازت ہے قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ الله وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أَوْ تُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صَغِرُوْنَ ) (التوبة: ٢٩) اہل کتاب میں سے اُن سے قتال کرو جو نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ ہی اسے حرام ٹھہراتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دین حق کو بطور دین اپناتے ہیں یہاں تک کہ وہ (اپنے) ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور وہ بے بس ہو چکے ہیں۔(نوٹ: اس آیت میں درج ذیل لوگوں کے خلاف قتال کی اجازت ہے ) (1) 1059 (2) 1060 جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔جو یوم آخر پر ایمان نہیں لاتے۔(3) 1061 (4) 1062 جو ان چیزوں کو حرام نہیں ٹھہراتے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔جو دینِ حق کو بطور دین نہیں اپنا تے۔یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں۔192 1963 عہد شکن کفار سے لڑائی کا حکم / (التوبة : ١٣ ) وَإِن نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِعَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ O اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرغنوں سے لڑائی کرو۔یقینا و وایسے ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حیثیت نہیں (پس اُن سے لڑائی کرو۔اس طرح) ہو سکتا ہے کہ وہ باز آجائیں۔التوبة : ١٣