700 احکام خداوندی

Page 35 of 615

700 احکام خداوندی — Page 35

35 اس طرح نہیں پڑھتے تو فکر کرنی چاہئے اور ہر ایک کو اپنے بارے میں سوچنا چاہئے کہ کیا وہ احمدی کہلانے کے بعد ان باتوں پر عمل نہ کر کے احمدیت سے دور تو نہیں جا رہا۔(5) پس ہر احمدی کو یا د رکھنا چاہئے کہ ہمیں بھی جو کچھ ملنا ہے قرآن کریم کی برکت سے ہی ملنا ہے اور برکت اس کے احکام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔پس ایسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو تقویٰ میں ترقی کرنے والے اور راہ ہدایت پانے والے ہوتے ہیں۔ان کے گھر کے ماحول بھی جنت نظیر ہوتے ہیں۔ان کے باہر کے ماحول بھی پرسکون ہوتے ہیں۔وہ بیوی بچوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ماں باپ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں، وہ صلہ رحمی کے بھی اعلیٰ معیار قائم کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ہمسایوں کے بھی حقوق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ اپنے دنیاوی کاموں کے بھی حق ادا کر رہے ہوتے ہیں اور وہ جماعتی خدمات کو بھی ایک انعام سمجھ کر اس کی ادائیگی میں اپنے اوقات صرف کر رہے ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے، رحمان کے بندے ہوتے ہیں۔ان کے بچے بھی ایسے باپوں کو ماڈل سمجھ رہے ہوتے ہیں اور ان کی بیویاں بھی ان سے خوش ہوتی ہیں اور پھر ایسی بیویاں ایسے خاوندوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیں، اپنے عملوں کو بھی ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔اور اس طرح ایسے لوگ بغیر کچھ کہے بھی خاموشی سے ہی ایک اچھے راعی ، ایک اچھے نگر ان کا نمونہ بھی قائم کر رہے ہوتے ہیں ان کا ہمسایہ بھی ان کی تعریف کے گیت گا رہا ہوتا ہے اور ان کا ماحول اور معاشرہ بھی ایسے لوگوں کی خوبیاں گنوار ہا ہوتا ہے۔ان کا افسر بھی ایسے شخص کی فرض شناسی کے قصے سنارہا ہوتا ہے اور اس کا ماتحت بھی ایسے اعلیٰ اخلاق کے افسر کے گن گارہا ہوتا ہے اور اس کے لئے قربانی دینے کے لئے بھی تیار ہوتا ہے۔اور اس کے دوست اور ساتھی بھی اس کی دوستی میں فخر محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔یہ خوبیاں جو قرآن پڑھ کر اس پر عمل کر کے ایک مومن حاصل کر سکتا ہے۔بلکہ اور بھی بہت ساری خوبیاں ہیں۔(6) کوئی احمدی کبھی بھی ایسا نہ رہے جو کہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت نہ کرتا ہو، کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اس کے احکام پر عمل نہ کرتا ہو۔اللہ نہ کرے کہ کبھی کوئی احمدی اس آیت کے نیچے آجائے کہ اس نے قرآن کریم کو متروک چھوڑ دیا ہو۔پس اس کے لئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو کمیاں ہیں ہر ایک کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے اندر کوئی کمی تو نہیں۔ہم نے قرآن کریم کو چھوڑ تو نہیں دیا۔تلاوت با قاعدگی سے ہو رہی ہے یا نہیں۔ترجمہ پڑھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔تفسیر سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔متروک چھوڑنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے نہ اللہ کے حقوق ادا کر رہے ہیں نہ بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں جب ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو ہر ایک کو اپنا علم ہو جائے گا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔