700 احکام خداوندی — Page 34
(3) 34 اگر نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کی تلاش میں ہو گے، اس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہو گے، تو فرمایا کہ میں نے قرآن کریم میں انسانی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے آسان انداز میں نصیحت کی ہے۔بڑے آسان حکم دیئے ہیں جن پر ہر ایک عمل کر سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اس میں تمام بنیادی اخلاق اور اصول وقواعد کا ذکر بھی آ گیا جن پر عمل کرنا کسی کم سے کم استعداد والے کے لئے بھی مشکل نہیں ہے۔عبادتوں کے متعلق بھی احکام ہیں تو وہ ہر ایک کی اپنی استعداد کے مطابق ہے۔عورتوں کے متعلق حکم ہیں تو وہ ان کی طاقت کے مطابق ہیں۔گھر پلو تعلقات چلانے کے لئے حکم ہے تو وہ عین انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔معاشرے میں تعلقات اور لین دین کے بارے میں حکم ہے تو وہ ایسا کہ ایک عام آدمی جس کو نیکی کا خیال ہے وہ بغیر اپنا یا دوسرے کا نقصان کئے اس پر عمل کر سکتا ہے۔پھر جن باتوں کی سمجھ نہ آئے یا بعض ایسے حکم ہیں جو بعض لوگوں کی ذہنی استعدادوں سے زیادہ ہوں ، اور بعض گہری عرفان کی باتیں ہیں ان کے سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زیادہ استعداد والوں کو علم دیا کہ انہوں نے ایسے مسائل آسان کر کے ہمارے سامنے رکھ دیئے۔(4) ایک احمدی کو خاص طور پر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے قرآن کریم پڑھنا ہے، سمجھنا ہے، غور کرنا ہے اور جہاں سمجھ نہ آئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وضاحتوں سے یا پھر انہیں اصولوں پر چلتے ہوئے اور مزید وضاحت کرتے ہوئے خلفاء نے جو وضاحتیں کی ہیں ان کو ان کے مطابق سمجھنا چاہئے۔اور پھر اس پر عمل کرنا ہے تب ہی ان لوگوں میں شمار ہو سکیں گے جن کے لئے یہ کتاب ہدایت کا باعث ہے۔ورنہ تو احمدی کا دعویٰ بھی غیزوں کے دعوے کی طرح ہی ہوگا کہ ہم قرآن کو عزت دیتے ہیں اس لئے ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے کہ یہ صرف دعوئی تو نہیں؟ اور دیکھے کہ حقیقت میں وہ قرآن کو عزت دیتا ہے؟ کیونکہ اب آسمان پر وہی عزت پائے گا جو قرآن کو عزت دے گا اور قرآن کو عزت دینا یہی ہے کہ اس کے سب حکموں پر عمل کیا جائے۔قرآن کی عزت یہ نہیں ہے کہ جس طرح بعض لوگ شیلفوں میں اپنے گھروں میں خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر قرآن کریم رکھ لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر ماتھے سے لگا کر پیار کر لیا اور کافی ہو گیا اور جو برکتیں حاصل ہوئی تھیں وہ ہو گئیں۔یہ تو خدا کی کتاب سے مذاق کرنے والی بات ہے۔دنیا کے کاموں کے لئے تو وقت ہوتا ہے لیکن سمجھنا تو ایک طرف رہا، اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ایک دو رکوع تلاوت ہی کرسکیں۔پس ہر احمدی کو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ خود بھی اور اس کے بیوی بچے بھی قرآن کریم پڑھنے اور اُس کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دیں۔پھر ترجمہ پڑھیں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر پڑھیں۔یہ تفسیر بھی تفسیر کی صورت میں تو نہیں لیکن بہر حال ایک کام ہوا ہوا ہے کہ مختلف کتب اور خطابات سے ، ملفوظات سے حوالے اکٹھے کر کے ایک جگہ کر دیئے گئے ہیں اور یہ بہت بڑا علم کا خزانہ ہے۔اگر ہم قرآن کریم کو