700 احکام خداوندی — Page 278
278 نہ (تو) اللہ نے بحیر : ( کے بنانے ) کا حکم دیا ہے نہ سائبہ کا نہ وصیلہ کا اور نہ حام کا لیکن جو (انگ ) کافر ہیں وہ اللہ پر جھوٹ باندھ کر) افتراء کرتے ہیں اور اُن میں سے اکثر بے عقل ہیں۔(نوٹ: زمانہ جاہلیت میں بعض رسومات جاری تھیں، جو منع کر دی گئیں۔جیسے۔۔۔۔۔۔بحیرہ ایسی اونٹنی جو دس بچے دے دیتی اس کے کان چھید کر کھلا چھوڑ دیا جاتا ، نہ ہی اس پر کوئی سوار ہوتا اور نہ سامان لا دتا۔596 سائبہ ایسی اونٹنی جو پانچ بچے دے دیتی اُسے چراہ گاہ میں کھلا چھوڑ دیا جاتا۔نہ حوض کے پانی | سے روکا جاتا اور نہ ہی چارے سے۔597 وصیلہ جب بکری نر اور مادہ دونوں اکٹھے بچے دیتی تو اُسے ذبح نہ کرتے تا ایک کو ذبح کرنے سے دوسرے کو تکلیف نہ ہو۔598 عام وہ سانڈ جس کی نسل سے دس بچے ہو جاتے اُسے کھلا چھوڑ دیا جاتا۔نہ اس پر سوار ہوتے اور نہ اس سے اور کام لیتے اور اسے چراگاہ سے اور پانی سے نہ روکا جاتا۔599358 شہر حلال ہے اور اس میں شفاء ہے (النحل: ٧٠،٦٩) وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَ مِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں میں بھی اور درختوں میں بھی اور ان ( بیلوں ) میں جو وہ اونچے سہاروں پر چڑھاتے ہیں گھر بنا۔پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے کھا اور اپنے رب کے رستوں پر عاجزی کرتے ہوئے چل۔ان کے پیٹوں میں سے ایسا مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اور اس میں انسانوں کے لئے ایک بڑی شفاء ہے۔یقینا اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بہت بڑا نشان ہے۔