700 احکام خداوندی — Page 226
226 اور بدی کا بدلہ، کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔پس جو کوئی معاف کرے بشرطیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔یقینا وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ہو البقرة : ٢٦٤ - ال عمران : ۱۳۵ - الاعراف یوسف :٩٣ - النور: ٢٣ 250 421 اہل کتاب سے معافی اور درگزر کا سلوک کرنا 422 423 ہے وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقِّ ، فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة: ١١٠ ) اہل کتاب میں سے بہت سے ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کاش تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد (ایک دفعہ پھر ) کفار بنادیں، بوجہ اس حسد کے جو ان کے اپنے دلوں سے پیدا ہوتا ہے (وہ ایسا کرتے ہیں ) بعد اس کے کہ حق ان پر روشن ہو چکا ہے۔پس ( اُن سے ) عفو سے کام لو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ ظاہر کر دے۔یقینا اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔المائدة : ۱۴ - الحجر : ۸۲- الشوری: ۴۴ مخالفین سے درگز را در سلام کہنا حم فَاصْفَحُ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَمٌ * پس تو ان سے درگزر کر اور کہہ سلام۔جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا حکم وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ (الزخرف : ٩٠) (الاعراف : ۲۰۰ )