700 احکام خداوندی — Page 22
22 22 احکام خداوندی کی اہمیت از روئے احادیث نبویہ (ترمذی) تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكُتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ المَوْطا) میں تم میں دو چیزیں ایسی چھوڑے جاتا ہوں کہ جب تک تم ان پر عمل پیرار ہو گے کبھی ناکام و نامراد نہ رہو گے اور وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے۔جس شخص نے قرآن پڑھا پھر اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام جانا۔یعنی اس کے اوامر پر عمل کیا اور نواہی سے اجتناب کیا۔اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کی شفاعت سے اُس کے گھر والوں کو بھی بخش دے گا۔ہو جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو اس کے ماں باپ کو قیامت کے روز دو تاج پہنائے جائیں گے۔جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہوگی۔یعنی اگر دنیا میں سورج تمہارے گھروں میں آجائے تو اس کی روشنی سے ان تاجوں کی روشنی زیادہ ہوگی۔پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہوا تو خیال کرو کہ خود اس شخص کا جس نے قرآن سیکھا کیا درجہ ہوگا۔ہی لوگوں میں سے بعض لوگ خدا کے گھر والے ہوتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا وہ کون ہیں؟ آنحضور نے فرمایا أهْلُ الْقُرْآن هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَ خَاصُّه یعنی قرآن کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے اللہ کے اہل میں سے ہیں گویا اس کے گھر کے افراد ہیں اور اس کے خواص میں سے ہیں۔(سنن ابی داؤد) (مسند احمد بن حنبل) حمد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس شخص کو قرآن مجید پڑھنے پڑھانے اور اس میں غور و تدبر کرنے کی مصروفیت کی وجہ سے میرا ذکر کرنے اور مجھ سے دُعائیں مانگنے کی فرصت نہیں ملتی میں اس کو سب دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں اور اللہ کے کلام کو دوسرے سب کلاموں پر ایسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی تمام مخلوق پر فضیلت حاصل ہے۔ہو خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَهُ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن کریم خود بھی سیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے۔(ترمذی) (بخاری) ہو جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ روزانہ اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے مشک سے بھری