700 احکام خداوندی — Page 202
381 228 202 یہودیوں کی مثال جن کے دل پھٹے ہوئے ہیں لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرى مُحَصَّنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدْرٍ بَأْسُهُمْ ط (الحشر: ۱۸۰۱۵) بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ ٥ كَمَثَلِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ذَا قُوْا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ لْ كَمَثَلِ الشَّيْطَنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرُ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيٍّ : ينكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَلَمِيْنَ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا وَذَلِكَ جَزَوُا الظَّلِمِينَ ) وہ تم سے اکٹھے لڑائی نہیں کریں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں یا پھر فصیلوں کے پر لی طرف سے۔اُن کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے۔تو انہیں اکٹھا سمجھتا ہے جبکہ ان کے دل بھنے ہوئے ہیں۔یہ اس لئے ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جو عقل نہیں کرتے۔( یہ ) ان لوگوں کی طرح ( ہیں ) جو ان سے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے اعمال کا وبال چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ( مقدر ) ہے۔شیطان کی مثال کی طرح جب اس نے انسان سے کہا انکار کر دے۔پس جب اس نے انکار کر دیا تو کہنے لگا کہ یقینا میں تجھ سے بری الذمہ ہوں۔یقیناً میں تو تمام جہانوں کے رب ، اللہ سے ڈرتا ہوں۔پس اُن دونوں کا انجام یہ ٹھہرا کہ وہ دونوں ہی آگ میں پڑیں گے۔دونوں اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہوں گے۔ظالموں کی یہی جزا ہوا کرتی ہے۔229 382 منافقین کی مثال مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا ، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ الله بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَةٍ لَّا يُبْصِرُونَ O صُمٌّ بُكُمْ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ) أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلُمَتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ ، يَجْعَلُوْنَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ مِن الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكَفِرِينَ 0 يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيهِ لا وَإِذَا أَظْلَمَ