700 احکام خداوندی — Page 170
700 احکام خدا وندن 313 183 170 صدقات تو محض محتاجوں اور مسکینوں اور اُن ( صدقات ) کا انتظام کرنے والوں اور جن کی تالیف قلب کی جارہی ہو اور گردنوں کو آزاد کرانے اور چٹی میں مبتلا لوگوں اور اللہ کی راہ میں عمومی خرچ کرنے اور مسافروں کے لئے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُومِ O (الذريت: ۲۰) اور ان کے اموال میں سوال کرنے والوں اور بے سوال ضرورت مندوں کے لیے ایک حق تھا۔لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَا ءَ مِنَ التَّعَفُّفِ، تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمُهُمْ ۚ لَا يَسْتَلُوْنَ النَّاسَ الْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْمٌ (البقرة: ۱۷۳) یہ خرچ ان ضرورت مندوں کی خاطر ہے جو خدا کی راہ میں محصور کر دیئے گئے ( اور ) وہ زمین میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ایک لاعلم ( ان کے ) سوال سے بچنے ( کی عادت ) کی وجہ سے انہیں متمول سمجھتا ہے۔لیکن تو ان کے اثار سے ان کو پہچانتا ہے۔وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے نہیں مانگتے۔اور جو کچھ بھی تم مال سے خرچ کرو تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔يَسْتَلُوْنَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ بَيْنَ وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌO (البقرة: ٢١٦) وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ تو کہہ دے (کہ) جو اچھا مال بھی تم دو۔وہ (تمہارے) ماں باپ قریبی رشتہ داروں۔قیموں۔مسکینوں اور مسافر کا پہلا حق ہے۔اور جو نیک کام بھی تم کرو اللہ اسے یقینا اچھی طرح جانتا ہے۔کفار سے مالی قربانی قبول نہ کی جائے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوْاوَ هُمُ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدٍ هِمْ مِّلُ ءُ الْأَرْضِ