700 احکام خداوندی — Page 13
13 سات کے ہند سے کا دلچسپ استعمال " اللہ کے دیئے گئے علوم میں سے ایک علم علم الاعداد “ ہے جو بہت دلچسپ بھی ہے۔اس کی ایک شاخ عدد یا ہند سے کا استعمال ہے۔بسا اوقات لوگ ہند سے یا عدد کے استعمال سے فال بھی نکالتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مضامین کو واضح کرنے کی خاطر بعض جگہ اعداد کا یا ہندسوں کا استعمال کیا ہے۔جیسے سبعة ابحر : سات سمندر، ثلاثة قروء : تين حيض، تسعة رهط : نواشخاص، ثمانية ازواج: آٹھ جوڑے وغیرہ وغیرہ۔ان اعداد میں سے سات ستر اور سات سو کے ہندسے کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔عربوں اور عجمیوں دونوں میں بالخصوص عربوں میں سات کا ہندسہ کثرت اور تکمیل اور کسی چیز کے کل کے لئے استعمال ہوتا ہے۔جیسے سبعة ابحر کے الفاظ قرآن کریم میں سات سمندر کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور مراد اس سے دنیا کے کل سمندر ہیں۔ہفت اقلیم ہفت کشور کا محاورہ ساری دنیا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔انگریزی میں Seven Fold کا لفظ Seven times یا as many اور as much کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اگر کوئی خاتون مکمل میک اپ اور سنگھار کے ساتھ ہو تو اس کے لیے سات سنگھار کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ مکمل آرائش کے ساتھ ہے۔اسی طرح مائیں اکثر اپنے بچوں کو کوئی بات یاد کرانے کے لئے یا تنبیہ کرنے کے لئے کہہ دیتی ہیں کہ میں نے تمہیں سات دفعہ یا ستر دفعہ کہا ہے کہ ایسانہ کرو۔تو اس سے مراد گن کر کچھ کہنا نہیں ہوتا بلکہ کثرت کے ساتھ کہنا مراد ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعود (اللہ آپ سے راضی ہو ) جہنم کے سات دروازوں کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔اور یہ جو سات دروازے بتائے ہیں ان سے مراد ضروری نہیں کہ سات ہی دروازے ہوں کیونکہ سات اور ستر کا ہندسہ عربوں میں تکمیل یا کثرت کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس محاورہ کے رو سے دوزخ کے سات دروازوں سے یہ مراد ہے کہ اس کے کثرت سے دروازے ہوں گئے۔( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ۸۱ زیر آیت الحجر: ۴۸) قرآن کریم میں استعمال اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی سات کے ہندسے کو دوسرے ہندسوں کی نسبت کثرت سے استعمال فرمایا ہے۔جیسے:۔